کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 375
(( وَلَئِنْ سَأَلَنِيْ لَأُعْطِیَنَّہٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لَأُعِیْذَنَّہٗ )) [1] ’’میرے ولی اور دوست (صالحین) جب مجھ سے کوئی سوال کریں تو میں ان کا سوال ضرور پورا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کریں تو میں انھیں ضرور پناہ دیتا ہوں۔‘‘ مصائب و مشکلات میں صرف اﷲ کو پکاریں: اگر کسی کو زمانے بھر کے مصائب و مشکلات گھیر لیں اور وہ اﷲ تعالیٰ سے ان کا ازالہ طلب کرے تو وہ اس کے تمام مصائب ختم کر دیتا ہے۔ سورۃ النمل میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَ یَکْشِفُ السُّوْٓئَ﴾ [النمل: ۶۲] ’’کون ہے جو مجبور کی دعاؤں کو سنتا اور اس کی مشکلات کو دور کرتا ہے۔‘‘ یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے اور دعا ہی کی تاثیر سے سمندر کے کنارے پر لا کر ڈال دیے گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: (( دَعْوَۃُ ذِيْ النُّوْنِ: ﴿ لَآ إِلٰہَ إِلَّآ أَنْتَ سُبْحٰنَکَ إِنِّيْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ لَمْ یَدْعُ بِھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِيْ شَیْیٍٔ قَطٌّ إِلَّا اسْتُجِیْبَ لَہٗ )) وَفي لفظ: (( لَا یَقُوْلُھَا مَکْرُوْبٌ إِلَّا فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہُ )) [2] ’’اگر کوئی شخص ذوالنون (یونس علیہ السلام ) کی دعا مانگے گا اور یہ کہے گا: ’’یااﷲ! تیرے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، تو پاک ہے اور میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘ تو اس شخص کی دعا قبول کی جائے گی۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے: ’’اگر کوئی مصیبت زدہ آدمی یہ دعا کرے گا تو اس کی مصیبت دور کر دی جائے گی۔‘‘ دعا سے حالات بدل جاتے ہیں۔ بے اولاد کو اولاد مل جاتی ہے۔ بیمار کو شفا عطا کر دی جاتی ہے۔ فقیر و نادار کو رزق دیا جاتا ہے۔ بد نصیب کو سعادت و خوشی عطا کی جاتی ہے، دعا کی تاثیر کا تو یہ عالم ہے کہ صرف ایک بندے کی بد دعا سے اﷲ تعالیٰ نے تمام اہلِ دنیا کو غرق کر دیا تھا، اور صرف وہ چند لوگ بچے تھے، جنھیں اﷲ بچانا چاہتا تھا۔ وہ دعا کرنے والے نوح علیہ السلام تھے۔ فرمایا: [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۵۰۲) [2] مسند أحمد (۳/ ۶۵) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۳۵۰۵)