کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 373
’’اپنے آپ پر بد دعا کرو، نہ اپنی اولاد کے خلاف بد دعا کرو اور نہ ہی اپنے مال کے لیے بددعا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھاری بد دعا کسی ایسی گھڑی میں ہو، جو قبولیت کی گھڑی ہو اور تمھاری بد دعا قبول ہو جائے۔‘‘ اﷲ سے دعا کرنے میں دیر نہ کریں اور اس سے سوال کرنے میں پوری گریہ و زاری سے کام لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پورا ایک مہینہ رعل و ذکوان نامی قبائل کے خلاف بد دعا کرتے رہے۔[1] (جنھوں نے ستّر حافظِ قرآن اصحاب رضی اللہ عنہم کو شہید کر دیا تھا) تمھارا رب بڑا حیا دار اور فضل و کرم کرنے والا ہے، وہ اپنے بندے کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو خالی واپس لوٹانے سے شرماتا ہے۔[2] دعائیں مانگو، تمھارا رب بڑا ہی کرم کرنے والا ہے، اپنے آپ کو اس کے سامنے گرا دو، اپنا معاملہ اس کے سپرد کردو، عزم کے ساتھ دعا کرو اور قبولیت کی قوی امید رکھو۔ اس نے سوال کرنے والوں کو کبھی خالی ہاتھ لوٹایا ہے نہ انھیں مایوس کیا ہے۔ اگر کسی پر فقر و فاقے کی نوبت آجائے اور وہ مخلوق سے مانگ کر اس فاقہ کشی کی حالت کو دور کرنا چاہے تو اس کا فقر و فاقہ کوئی بھی دور نہ کر سکے گا جبکہ اگر کوئی شخص اپنے رب سے فاقہ و غربت دور کرنے کا سوال کرے گا تو وہ بہترین رزاق اور روزی رساں ہے۔ اے دعا کرنے والے! اپنی شکایت اﷲ سے کرو اور اسی کے سامنے اپنے فقر و حاجت کو بیان کرو، جیسا کہ یعقوب علیہ السلام کی زبانی اﷲ نے بتایا ہے کہ وہ کہتے ہیں: ﴿اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْٓ اِلَی اللّٰہِ﴾ [یوسف: ۶۸] ’’میں اپنی پریشانیوں اور رنج و غم کی فریاد اﷲ سے کر رہا ہوں۔‘‘ اﷲ ہر مناجات کرنے والے کا ساتھی، ہر شکایت کو سننے والا اور ہر بلا کو ٹالنے والا ہے۔ اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں، جن میں اس کے شب و روز بانٹنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے امیدیں لگانے والا کبھی مایوس نہیں لوٹا۔ مصائب و مشکلات کے ازالے کے لیے اس کے سوا کسی سے امید نہ رکھی جائے۔ اس کے ہاتھ میں خزانوں کی چابیاں ہیں اور پکارنے والوں کے لیے اس کا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۱۰۰۳) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۶۷۷) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۴۸۸) سنن الترمذي، برقم (۳۵۵۶) سنن ابن ماجہ، برقم (۳۸۶۵)