کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 37
خطبہ مسنونہ إِنَّ الْحَمْد للّٰهِ ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ، وَمْنْ يَضْلُلُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدُهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدَاً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ:فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى اللّٰه عليه وآله وسلم، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ، وَكُلَّ ضَلاَلَةٍ فِى النَّارِ[1] ’’بلاشبہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ۔ ہم اسی کی تعریف کرتے، اسی سے مدد مانگتے اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں۔ اپنے نفس کی شرارتوں اور اپنے برے اعمال سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔جسے اللہ راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ دھتکار دے اسے کوئی راہ راست سے نہیں لا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے ، وہ اکیلا ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے او راس کے رسول ہیں ۔‘‘ ’’حمد و صلوٰۃ کےبعد! یقیناًتمام باتوں سے بہتر بات اللہ کی کتاب اور تمام طریقوں سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور تمام امور میں سے بڑے کام (دین میں ) خود ساختہ ( بدعت والے) کام ہیں ، ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے ۔ ‘‘ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ [1] ((مسلم، الجمعۃ، باب الخفیف الصلوٰۃ و الخطبۃ ،حدیث 868 و 867،والنسائی، 3278))