کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 369
پہلا خطبہ دعا کی اہمیت و فضیلت امام و خطيب: فضيلة الشيخ عبد المحسن القاسم حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: شانِ عبودیت: تمام مخلوقات اپنے دین و دنیا کے معاملات میں نفع کے حصول اور نقصان سے بچاو کے لیے اﷲ تعالیٰ کی محتاج ہیں۔ مخلوق کا کمال ہی عبودیت و بندگی میں ہے۔ جیسے جیسے کوئی بندہ بندگی میں بڑھتا جاتا ہے، ویسے ویسے ہی وہ ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے اور اس کے درجات بلند ہوتے جاتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمایش و امتحان میں مبتلا کرتا رہتا ہے، تاکہ وہ اس کے بابِ رحمت پر دستک دینے کی طرف رجوع کریں اور اس سے مدد طلب کریں۔ اﷲ کے در کا فقیر بننا ہی عین تونگری ہے، یہی مغزِ عبادت اور اس کا مقصودِ اعظم ہے۔ اس ذاتِ عالی کے سامنے انکساری و عاجزی کرنا باعثِ عز و شرف اور شانِ بندگی ہے۔ دعا عبودیت و بندگی کی شان ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ بندے صرف اسی سے اپنی تمام حاجتیں طلب کریں۔ ایک حدیثِ قدسی میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: (( یَا عِبَادِيْ کُلُّکُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ ھَدَیْتُہٗ، فَاسْتَھْدُوْنِيْ أَھْدِکُمْ، یَا عِبَادِيْ کُلُّکُمْ جَائِعٌ إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُہٗ، فَاسْتَطْعِمُوْنِيْ أُطْعِمْکُمْ )) [1] ’’میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، مگر وہ جس کو میں ہدایت دوں، چنانچہ تم مجھ سے ہدایت طلب کرو میں تمھیں ہدایت نصیب کروں گا۔ میرے بندو! تم سب بھوکے ہو، سوائے اس کے، جسے میں کھلاؤں، چنانچہ تم سب مجھ سے روزی طلب کیا کرو، میں تمھیں روزی عطا کروں گا۔‘‘ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۵۷۷)