کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 362
﴿ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمَعْتَدِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۹۰] ’’اور زیادتی نہ کرو بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ اور ارشاد ہے: ﴿ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی﴾ [الفاطر: ۱۸] ’’اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ تمام بحرانوں کا علاج۔۔۔ منہجِ ربانی: جب تک حیاتِ بشر اس زمین پر اللہ کے منہج و طریقے پر نہ چلے گی اور جب تک بشریت کے اہلِ عقل و دانش اسبابِ شر کا مکمل طور پر ادراک نہیں کر لیتے، اور مصالح اور مفاسد میں موازنے کے بعد مکمل عدل و انصاف اور اصابتِ رائے سے ان مشکلات و مصائب اور عالمی مسائل کا علاج نہ کیا جائے گا، کفر و اسلام کی یہ رنجش کبھی ختم ہوگی نہ کبھی حیاتِ انسانی کی کشتی امن و سلامتی، اطمینان و سکون اور رحم و کرم کے ساحلِ مراد تک پہنچ پائے گی۔ ان بنیادوں کو چھوڑ کر انسان جتنی بھی کوششیں کرے، بیماریاں ختم ہوں گی اور نہ بحرانوں ہی پر قا بو پایا جاسکے گا۔ مسلمانو! امتوں اور قوموں کو تاریخ کے بعض ادوار میں مصائب و مشکلات اور بحرانوں سے دوچار ہونا پڑا۔ خطرہ بحرانوں اورمصائب و آلام کے وقوع پذیر ہونے میں نہیں، بلکہ خطرہ ان پر قابو پانے کے طریقے اور اسلوبِ علاج میں اور ان کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کے اسباب کو ختم کرنے میں عقلمندی سے کام نہ لینے میں ہے۔ اگر حقائق پر پوری بصیرت سے توجہ نہ دی جائے تو برے نتائج اور خوفناک انجام کے سوا اور کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًام بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ﴾ [الحجرات: ۶] ’’اے ایمان والو! اگر کوئی بد کردار تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو، پھر تمھیں اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: