کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 361
ایمان سے دوری کے نتائج: برادرانِ ایمان! منہج ایمان سے دوری، حقائقِ عقیدہ میں خلل اور زندگی میں ان کے نور و ضیا باری سے انحراف ہی ان موجودہ خطرناک بحرانوں اور بڑی بڑی مشکلات و مصائب کا باعث اور اس دائمی بلا اور مسلسل شقاوت و بدبختی کا سبب ہیں، جنھوں نے زندگی کو دائمی تشنگی اور خوفناک اندھیروں میں گھیر رکھا ہے، جس میں کوئی سکون ہے، نہ خوشحالی و اطمینان ہے، سعادت و خوشی ہے اور نہ ہی مالی فراوانی ہی، بلکہ مسلسل قلق اور دائمی اضطراب ہے، لوگ مشکلات میں غرقاب ہیں اور انتہائی حرمانِ نصیبی اور تلخ انجام ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی﴾ [طٰہٰ: ۱۲۴] ’’اور جو میرے ذکر و نصیحت سے منہ پھیرے گا، اس کی زندگی اجیرن (تنگ) ہو جائے گی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔‘‘ آج بنی نوع انسان شر کے جن جھکڑوں میں گھرے ہوئے ہیں اور تباہ کن جنگوں کے جو بھوت آج ننگے ناچ رہے ہیں، یہ سب مصائب انسان کے منہجِ الٰہی، عقیدۂ ربانیہ، جادۂ مستقیم، عدل و انصاف، حریت و آزادی اور مساوات و برابری کے اصولوں سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ اگر عقل اور حکمت و دانائی کو بروے کار لایا جاتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَ یَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ وَ الْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ﴾ [النحل: ۹۰] ’’اللہ تمھیں عدل و انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے، بے حیائی و برے کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے اور تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔‘‘ مزید فرمایا: ﴿ وَ لَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ﴾ [القصص: ۷۷] ’’اور زمین میں طالبِ فساد نہ ہو۔‘‘ نیز ارشادِ الٰہی ہے: