کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 358
اور اسے مطلق امن و امان، مکمل ہدایت اور نورِ کامل سے مزین رکھتا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾[الرعد: ۱۸] ’’( اللہ انھیں ہدایت دیتا ہے) جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل یادِ الٰہی سے آرام پاتے ہیں، اور سن رکھو کہ ذکرِ الٰہی ہی سے دل اطمینان حاصل کرتے ہیں۔‘‘ نیز فرمایا ہے: ﴿ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ﴾ [الأنعام: ۸۲] ’’اور جو لوگ ایمان لائے اوراپنے ایمان کو شرک کے ظلم سے مخلوط نہیں کیا، ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔‘‘ 6۔جو شخص ایمانی فضا میں جیتا ہے، اس کی مضبوط رسی کو پکڑے رکھتا ہے اور اسی کے تاب ناک نور سے روشنی حاصل کرتا ہے، وہ اپنی زندگی کو ایسے واضح انداز سے بسر کرتا ہے کہ وہ اللہ کی بلیغ حکمتوں، وسیع رحمتوں اور بے پایاں قدرتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس کا دل مطمئن اور نفس و ضمیر صاف و روشن رہتا ہے، کیونکہ اس کا اس بات پر ایمان ہوتا ہے کہ جو تکلیف اسے پہنچی ہے وہ ٹل نہیں سکتی تھی اور جو نعمت اسے نہیں ملی وہ اسے مل نہیں سکتی تھی، لہٰذا یوں اس کا دل شکوک و شبہات کی آماجگاہ بنتا ہے اور نہ قلق و اضطراب اس کے وجدان و شعور کو چھو پاتے ہیں۔ وہ پورے اطمینان و توازن کے ساتھ چلتے چلتے اپنی پاکیزہ و معزز منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک جامع وصیت میں فرمایا ہے: (( اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ، اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلٰی أَنْ یَّنْفَعُوْکَ بِشَیْیٍٔ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْیٍٔ قَدْ کَتَبَ اللّٰہُ لَکَ، وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْیٍٔ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْیٍٔ قَدْ کَتَبَ اللّٰہُ عَلَیْکَ، رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ )) [1] [1] سنن الترمذي (۴/ ۴۰۹) رقم الحدیث (۲۵۱۶)