کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 356
خیر و بھلائی کا مصدر اور سعادت مندی و خوشحالی کا منبع ہے، لیکن یہ سب صرف اس کے لیے ہے جس نے اسے صحیح طور پر اپنایا، اس کی مکمل پیروی کی اور اس کے تمام تقاضے پورے کیے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا . وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا﴾ [الشمس: ۹، ۱۰] ’’جس نے اپنے نفس (روح) کو پاک رکھا وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے اسے گناہوں سے گندا کر لیا وہ خسارے میں رہا۔‘‘ یہی وہ شجرۂ طیبہ ہے، جس کے پھل پکے ہوئے اور دائمی ہیں، چاہے زمانہ کتنا ہی کیوں نہ گزر جائے راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو اور مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اس کا فیض ہر شکل میں ہر وقت جاری ہے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَلَمْ تَرَکَیْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُھَا فِی السَّمَآئِ . تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍمبِاِذْنِ رَبِّھَا﴾ [إبراھیم: ۲۴، ۲۵] ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے پاک بات کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے، (وہ ایسے ہے) جیسے پاکیزہ درخت، جس کی جڑ مضبوط (زمین کو پکڑے ہوئے) ہو اور شاخیں آسمان میں ہوں، وہ اپنے پروردگار کے حکم سے ہر وقت پھل (اور میوے دیتا) ہو۔‘‘ 2۔ایمانی عقیدہ بنی نوع انسان کے لیے خیر و بھلائی کا ایک بیش بہا خزانہ ہے، جس کے بغیر وہ صحیح راستہ نہیں پا سکتے، انھیں قلق و اضطراب گھیرے رکھتا ہے اور وہ پریشانی و خسارے میں مبتلا رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَالْعَصْرِ . اِنَّ الْاِِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ . اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ﴾ [العصر: ۱ تا ۳] ’’زمانے کی قسم! انسان نقصان و خسارے میں ہے، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘ 3۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو عقیدہ لائے، وہ خیر و صلاح اور بھلائی کے لیے ایک طاقتور مددگار اور شر و گناہ اور سرکشی کے راستے میں زبردست رکاوٹ ہے۔ جس نے اس ایمانی عقیدے کو اپنا لیا وہ کبھی