کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 352
عزت کے معانی و مفاہیم: (1) عزت کے معنی و مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ رحم دل اور منکسر مزاج ہو، فخر و تکبر کرے اور نہ ان کے خلاف بغاوت کرے، البتہ دین اور حق کے دشمنوں کے مقابلے میں غالب و قوی ہو۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَھُمْ﴾ [الفتح: ۲۹] ’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں۔‘‘ نیز ارشادِ ربانی ہے: ﴿ وَ لَا تَھِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴾ [آل عمران: ۱۳۹] ’’نہ تم سستی کرو، نہ غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو۔ ‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلمانوں کو ضعیف و بے وقعت نہیں دیکھنا چاہتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ مسلم غالب ہو، مغلوب نہ ہو، قوی ہو کمزور نہ ہو، صابر و دلیر ہو، پست حوصلہ و کم ہمت نہ ہو اور نا امیدی و غم کو پاس بھی نہ پھٹکنے دے۔ (2) عزت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ آدمی کا دل غنی و مالدار اور زینتِ دنیا سے بہت بالا ہو، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( لَیْسَ الْغِنیٰ عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرْضِ، وَلٰکِنَّ الْغِنٰی غِنَی النَّفْسِ )) [1] ’’غنی مالِ دنیا کی کثرت سے نہیں ہوتا، بلکہ غنی وہ ہے جس کا دل غنی ہے۔‘‘ عزتِ نفس کا مالک شخص دوسروں سے سوال کرنے سے بالا ہوتا ہے۔ عہدے دار اور مالک رشوت ستانی سے بچتا ہے، شاگرد نقل سے گریز کرے، تاجر لالچ اور دھوکے سے بچے اور مزدور سستی و بے پروائی نہ کرے۔ موت و حیات اور روزی کا مالک صرف اللہ ہے: بعض لوگ موت کے ڈر یا روزی کے خوف سے اپنے آپ کو ذلیل کر لیتے اور اپنے دین میں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۰۸۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۱۰۵۱)