کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 348
عزت کو ختم کرجاتی ہے، کسی کو حسب و نسب کے ذریعے کچھ عزت ملتی ہے مگر وہ بھی ہر طرف سے ضیاع و نامرادی کی نذر ہو جاتی ہے، کسی کو علم و معرفت کی بدولت عزت ملتی ہے مگر وہ علم اسے انحراف و گمراہی کی طرف لے جاتا ہے، ہو سکتا ہے کہ کسی کو جاہ و منصب اور قوت و جبروت کی وجہ سے عزت حاصل ہو، مگر پھر وہ دَور آتا ہے کہ یہ سب چھن جاتا ہے اور وہ سب سے ذلیل ترین ہو جاتا ہے، کسی فرد بشر کا اپنی قوم، رنگ، زبان، نسب اور مال سے عزت دار بننا، یہ سب جھوٹی اور جلدی ختم ہونے والی عزت ہے جو غلط تصورات اور جعلی قدروں کا نتیجہ ہے۔ دائمی عزت: البتہ اللہ کے ساتھ تعلق پیدا کر کے عزت حاصل کرنا یہ دائمی عزت کا ذریعہ ہے، جو کبھی زائل و ختم ہونے والی نہیں ہوگی، اسی لیے قرآن نے کہا ہے: ﴿ وَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ﴾ [المنافقون: ۸] ’’اور عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے ہے اور ایمانداروں کے لیے ہے، لیکن یہ منافق نہیں جانتے۔‘‘ یہی عزت دراصل ایک مضبوط قلعہ ہے اور یہی دولت کے بل بوتے پر اکڑنے والوں، نسب پر فخر کرنے والوں، اپنی افرادی قوت پر اِترانے والوں اور طاقت پر گھمنڈ کرنے والوں یا دیگر مال و دولتِ دنیا پر نازاں لوگوں کے مقابلے میں شکم سیری اور سیر چشمی ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ: امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ملکِ شام کے سفر پر نکلے اور ان کے ساتھ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، راستے میں ایک کیچڑ والی جگہ پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اونٹنی سے اترے، اپنے جوتے اتارے اور کندھے پر رکھ کر اونٹنی کی نکیل پکڑ کر چلنے لگے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر کہا: اے امیر المومنین! آپ ایسا کر رہے ہیں، مجھے اچھا نہیں لگتا کہ شہر کے لوگ آپ کو اس حالت میں دیکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’خبردار اے ابو عبیدہ! اگر یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی تو میں اسے (سزا دے کر) امتِ محمدیہ کے لیے عبرت بنا دیتا، ہم ذلیل قوم تھے، اللہ نے اسلام کی بدولت ہمیں عزت عطا فرمائی، ہم اللہ کی دی ہوئی دولتِ اسلام کے سوا کسی چیز سے عزت طلب کریں گے تو اللہ ذلت ہی دے گا۔‘‘[1] [1] المستدرک علی الصحیحین، رقم الحدیث (۲۱۴)