کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 347
﴿ وَ مَنْ یُّھِنِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ﴾ [الحج: ۱۸] ’’اور جسے اللہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔‘‘ گناہ گار دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار اور رسوا و بدبخت ہے، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّ نَحْشُرُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اَعْمٰی﴾ [طٰہٰ: ۱۲۴] ’’اور ہاں جو میری یاد سے رو گردانی کرے گا، اس کی زندگی تنگی میں رہے گی اور ہم اسے روزِ قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے۔‘‘ اب رہا معاملہ اہلِ علم و ایمان کا تو دنیا و آخرت میں عزت انھی لوگوں کا مقدر ہے، وہ مالداروں کی ظاہری چمک دمک سے مرعوب و فریفتہ نہیں ہوتے اور نہ ان کے دلوں میں اس سے کوئی بال آتا ہے۔ قارون کو دنیاوی مال و دولت دی گئی اور جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا تو اہلِ علم و ایمان نے کہا: ﴿ وَیْلَکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَ لَا یُلَقّٰھَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ﴾ [القصص: ۸۰] ’’افسوس! بہتر چیز تو وہ ہے، جو بطورِ ثواب انھیں ملے گی، جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور صبر کرنے والوں کے سوا اور کوئی اسے نہیں پائے گا۔‘‘ بعض علما نے کہا ہے: ’’جس نے اللہ کی اطاعت کی اور گناہوں سے کنارہ کش رہا، اللہ اسے عزت عطا کرتا ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری اور عزت کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور گناہ و ذلت کا بھی باہم گہرا جوڑ ہے، اللہ نے عزت کو اطاعت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے، یہ اطاعت نور ہے۔ ذلت کو گناہ کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، وہ گناہ و نافرمانی ظلمت و ذلت ہے اور اللہ کے اور گناہ گار کے مابین ایک پردہ ہے۔‘‘ عارضی عزت: کبھی کسی کو قوتِ بدن کے ساتھ بھی عزت مل جاتی ہے مگر اچانک بیماری آتی ہے اور وہ اس