کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 345
الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزٰی وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ﴾ [حم السجدۃ: ۱۵، ۱۶] ’’قومِ عاد نے ناحق زمین میں سرکشی شروع کردی اور کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ زور آور کون ہے؟ کیا انھیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انھیں پیدا کیا ہے، وہ ان سے بہت ہی زیادہ زور آور ہے؟ وہ آخر تک ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے، بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انھیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں اور یقین مانو کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیادہ رسوائی والا ہے اور وہ مدد بھی نہیں کیے جائیں گے۔‘‘ اسلامی عقائد میں عزت: یہ عزت اسلامی تربیت اور عقیدے کے راسخ ہونے کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ وہ عقیدہ جس نے ایک عرب مسلمان کو اطمینان دلایا جو اپنے کپڑوں کو خود ٹانکے لگا یا کرتا تھا، اپنے جوتے خود سیتا تھا اور روکھی سوکھی کھجوریں کھاتا تھا، اسے یہ اطمینان و یقین دلایا کہ اسلام کی بدولت وہ اس زمین اور اس کی تمام مخلوقات کا سردار ہے، مگر حق کے مقابلے میں تکبر نہ ہو، باطل پر تعلّی نہ ہو، ظلم و سرکشی اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے ذلت آمیز کام نہ کیا جائے۔ حصولِ عزت کا طریقہ: حصولِ عزت کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعًا اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗ﴾ [الفاطر: ۱۰] ’’جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے، تمام تر ستھرے کلمات اس کی طرف چڑھتے ہیں اور نیک عمل ان کو بلند کرتا ہے۔‘‘ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: ’’جو شخص دنیا و آخرت میں عزت پانا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے، ایسا کرنے سے اس کا مقصود و مطلوب حاصل ہو جائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی