کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 342
سے کھیلنا، یہ سب اسلام کی تعلیمات کے منافی فعل ہیں۔ اس سلسلے میں ارشادِ الٰہی بڑا واضح ہے: ﴿ وَ لَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمَعْتَدِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۹۰] ’’اور زیادتی نہ کرو، اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ الغرض اسلام دینِ حق ہے جو ہر اس کام کا حکم دیتا ہے، جس میں انسانیت کی خیر و بھلائی اور صلاح و فلاح ہو اور ہر اس کام سے اپنے ماننے والوں کو سختی سے منع کرتا ہے، جس میں انسانیت کا نقصان ، بگاڑ یا اس کے لیے برائی ہو۔ کہاں دہشت گردی اور کہاں اسلام؟ بقولِ شاعر . چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔