کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 340
وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّآئِمِیْنَ وَالصّٰئِمٰتِٓ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾ [الأحزاب: ۳۵] ’’بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں، اللہ کا بہ کثرت ذکر کرنے والے مرد اور بہ کثرت ذکر کرنے والی عورتیں ان سب کے لیے اللہ تعالیٰ نے وسیع مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔‘‘ اللہ کے بندو! اپنے تمام اقوال و اعمال میں صادق اور راست باز لوگوں میں سے ہو جاؤ، بے شک صدق جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، یہ موت کو قریب کرتا ہے، رزق کو روکتا ہے اور نہ کسی مصلحت ہی کو ضائع کرتا ہے۔ اسلام پر دہشت گردی کا الزام: مسلمانو! صدق و راست بازی میں سے یہ بھی ہے کہ انسان غداری، خیانت، مکرو فریب اور دھوکا دہی سے دور رہے۔ سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی ذات کے بارے میں جھوٹ بولے، اسی طرح سب سے بڑا اور سخت ترین جھوٹ یہ ہے کہ کوئی شخص اسلام کے بارے میں جھوٹ بولے اور اسے ایسے افعال کا ذمہ دار ٹھہرائے جو اس کے لائق ہی نہیں، پھر اس پر ایسے الزامات عائد کرے، جن سے وہ مکمل طور پر بَری ہے۔ اسلام کو ظلم اور عداوت کا الزام دینا بھی بہت بڑا جھوٹ اور صریح دروغ گوئی ہے۔ اسلام تو سراسر رحمت و محبت اور امن کا دین ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ﴾ [الأنبیاء: ۱۰۷] ’’ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘