کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 338
وَ فِی الرِّقَابِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَھْدِھِمْ اِذَا عٰھَدُوْا وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَ الضَّرَّآئِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۷۷] ’’اچھائی صرف یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کی طرف اپنے منہ پھیر لو، بلکہ حقیقتاً نیک وہ ہے جو اللہ پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان لائے، اور جو مال کی محبت کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والوں پر اور غلام آزاد کرنے پر خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکات ادا کرے، اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے اور تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے، یہی ہیں سچے لوگ اور یہی ہیں پرہیزگار لوگ۔‘‘ اور ایک جگہ پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا﴾ [الأحزاب: ۲۳] ’’مومنوں میں ایسے بھی ہیں، جنھوں نے جو عہد اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، اسے سچا کر دکھایا، بعض تو اپنا عہد پورا کرچکے اور بعض (موقع کے) منتظر ہیں اور انھوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔‘‘ سلف میں سچائی کے بعض نمونے: ایمان کی اصل بھی صدق و سچائی اور تصدیق ہی ہے، گویا صدق اقوال میں بھی ہوتا ہے اور افعال میں بھی، سلف صالحینِ امت اپنے پروردگار اور اس کے بندوں کے ساتھ صدق و سچائی کے معاملات کرنے پر بڑی سختی سے پابندی کیا کرتے تھے۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے میرے صدق و سچائی کی وجہ سے نجات دی ہے، چنانچہ میری توبہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا، کبھی سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ کی قسم ہے جب سے میں نے یہ بات نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ہے تب سے لے کر آج تک میری معلومات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کسی کو صدق کے