کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 337
الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا﴾ [النساء: ۶۹] ’’اور جو بھی اللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے، جیسے نبی، صدیق، شہید اور صالح لوگ ہیں، اور یہ بہترین رفیق ہیں۔‘‘ حقیقتِ صدق: یہ صدق و سچائی جس پر اللہ تعالیٰ نے بہترین ثواب کا وعدہ فرمایا ہے اور جس پر عمل پیرا شخص کو عذاب سے نجات کی بشارت دی ہے، اس صدق کی حقیقت کیا ہے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ قول و قرار اورفعل و کردار دونوں میں صدق ہو۔ قولی صدق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی دعوت و تبلیغ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام و سنت کی نشر و اشاعت میں صدق مقالی اور حق بیانی سے کام لے، حق بات کا حکم دے اور باطل سے روکے اور حقیقت کے عین مطابق بیان کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾ [الزمر: ۳۳] ’’اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی، یہی لوگ متقی اور پرہیز گار ہیں۔‘‘ ایک حدیث شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: (( اَلْمُؤْمِنُ إِذَا قَالَ صَدَقَ، وَإِذَا قِیْلَ لَہٗ یُصَدِّقُ )) [1] ’’مومن جب بات کرتا ہے تو سچ کہتا ہے اور اگر اس سے کوئی (سچی) بات کہی جائے تو اس کی تصدیق کرتاہے۔‘‘ فعل و کردار میں صدق یہ ہے کہ بندے کا اپنے رب کے ساتھ سارا معاملہ صدقِ دل، اخلاصِ نیت اور محبت و یقین کے ساتھ ہو اور مخلوقِ خدا کے ساتھ اس کا معاملہ ہمیشہ صدق و سچائی، رحم و کرم اور وفا والا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَ لٰکِنَّ الْبِرَّمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَ وَ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ السَّآئِلِیْنَ [1] ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’لا یعرف بھذا اللفظ‘‘ (المصنوع في معرفۃ الحدیث الموضوع، ص: ۱۵۱) نیز دیکھیں: المقاصد الحسنۃ للسخاوي، رقم الحدیث (۱۱۶۹)