کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 336
خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں آپ کے علاوہ اہلِ دنیا میں سے کسی اور کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں کوئی نہ کوئی عذر تراش لیتا اور اس کے غصے سے بچ نکلتا، کیونکہ مجھے بات کرنے کا ڈھنگ اچھی طرح آتا ہے، لیکن اللہ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ آج میں اگر آپ کے سامنے جھوٹ بول کر بچ نکلوں گا اور آپ مجھ سے راضی بھی ہو جائیں گے تو قریب ہے کہ اللہ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے، اور اگر میں سچ کہوں گا تو آپ محسوس فرمائیں گے، لیکن اس سچ بولنے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حسنِ عاقبت کا طلب گار ہوں۔‘‘[1] یعنی مجھے اللہ تعالیٰ سے اچھے انجام کی امید ہے اور ان کے سچ بولنے کی وجہ سے واقعی بہ صورتِ معافی انھیں اچھا انجام مل گیا۔ آخرت میں سچائی کا بدلہ: سچائی کا بدلہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور جنت میں بلند درجات کی شکل میں ملے گا۔ وہ جنت جس میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ جو کسی آنکھ نے کبھی دیکھیں، نہ کسی کان نے کبھی سنیں اور نہ ہی کسی دل میں ان کا تصور آیا ہو گا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴾ [المائدۃ: ۱۱۹] ’’اللہ ارشاد فرمائے گا: یہ وہ دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے ان کا سچا ہونا ان کے کام آئے گا، ان کو ایسی جنتیں ملیں گی، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی و خوش اور یہ اللہ سے راضی و خوش ہوں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اور ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۴۴۱۸) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۷۶۹)