کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 334
درجہ کی ہوتی ہیں، نیز برے اعمال و افعال اور صفاتِ قبیحہ بھی فاعل کی ذات اور عام مخلوقات کے نقصانات اور کثرتِ شر کی وجہ سے عقاب و عذاب اور دردناک سزا میں ایک سے بڑھ کر ایک ہوتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا وَلِیُوَفِّیَھُمْ اَعْمَالَھُمْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ﴾ [الأحقاف: ۱۹] ’’اور ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کے مطابق درجے ملیں گے تاکہ انھیں ان کے اعمال کے پورے بدلے دے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے۔‘‘ سچائی اور حق گوئی کی اہمیت: سچائی اور حق گوئی ایک بہترین اخلاقی صفت اور انتہائی اعلی و عمدہ وصف ہے، اس صفت سے متصف صرف وہی خوش نصیب ہوتا ہے جو قلبِ سلیم کا مالک ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴾ [التوبۃ: ۱۱۹] ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاو۔‘‘ ثوابِ صدق اور عذابِ کذب: صدق و سچائی اور حق گوئی انسان کی اصلیت، اس کے حسنِ باطنی اور حسنِ سیرت کا پتا دیتی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح جھوٹ و دروغ گوئی اور کذب بیانی انسان کے خبثِ باطن اور کردار کی قباحت کی دلیل ہوتی ہے۔ صدق و سچائی ذریعۂ نجات جبکہ کذب و جھوٹ باعثِ ہلاکت ہے۔ حق گوئی و صداقت صحیح فطرت اور سالم عقلوں کے نزدیک محبوب و پسندیدہ صفت ہے۔ رسولِ ہدایت صلی اللہ علیہ وسلم نے صداقت و حق گوئی کی ترغیب دلائی ہے، چنانچہ سیدنا عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( عَلَیْکُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ یَھْدِيْ إِلَی الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ یَھْدِيْ إِلَی الْجَنَّۃِ، وَلَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَصْدُقُ وَیَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ صِدِّیْقًا، وَإِیَّاکُمْ وَالْکَذِبَ، فَإِنَّ الْکَذِبَ یَھْدِيْ إِلَی الْفُجُوْرِ، وَإِنَّ الْفُجُوْرَ