کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 331
(( إِنَّمَا مَثَلِيْ وَ مَثَلُ أُمَّتِيْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اِسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَائَ تْ مَا حَوْلَھَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَابُّ الَّتِيْ فِيْ النَّارِ یَقَعْنَ فِیْھَا، وَجَعَلَ یَحْجِزُھُنَّ وَ یَغْلِبْنَہٗ، فَیَتَقَحَّمْنَ فِیْھَا، فَذٰلِکُمْ مَثَلِيْ وَمَثَلُکُمْ، أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ، ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ، ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ، فَتَغْلِبُوْنِيْ، تَقَحَّمُوْنَ فِیْھَا )) [1] ’’میری اور میری امت کی مثال اس آدمی جیسی ہے، جس نے آگ جلائی، جب اس کے ارد گرد روشنی ہو گئی تو پروانوں اور کیڑوں مکوڑوں نے اس آگ میں آ آکر گرنا شروع کر دیا، اس آدمی نے انھیں آگ سے بچانا شروع کیا مگر وہ اس پر غالب آگئے اور آگ میں کود گئے۔ میری اور تمھاری مثال بالکل اسی کی طرح ہے، میں تمھیں پکڑ پکڑ کر پیچھے کھینچتا ہوں کہ بچ جاؤ، آگے آگ ہے، آگ سے بچ جاؤ، مگر تم مجھ پر غالب آجاتے ہو اور آگ میں کود جاتے ہو۔‘‘ جاہل اور شریعت کی خلاف ورزی کرنے والے اپنے گناہوں اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی وجہ سے آخرت کی آگ میں گریں گے، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں منع کر رکھا ہے اور جن کاموں سے بچنا ضروری ہے ان سے روک رکھا ہے، مگر وہ عقل کی کمزوری اور تمییز کی کمی کی وجہ سے آخرت کی آگ میں گرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ یہ پروانے اور انسان دونوں ہی اپنی اپنی جہالت پر مصرّ اور ہلاک ہونے پر تلے ہوئے ہیں۔ خبردار ہو جاؤ، ہوشیار ہو جاؤ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے کہ جس دن کا لایا ہوا ایمان بھی کسی کو کوئی فائدہ نہ دے گا، اگر وہ اس دن کے آنے سے پہلے ایمان نہ لا یا ہوگا اور اس ایمان کی حالت میں نیکی نہ کی ہو گی تو کچھ حاصل نہ ہو گا۔ تم اسلام کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو، اگرچہ دوسرے لوگ اسے چھوڑ ہی کیوں نہ بیٹھیں۔ اس زمانے کے فتنوں سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: (( إِنَّ مِنْ وَّرَائِکُمْ أَیَّامَ الصَّبْرِ، اَلصَّبْرُ فِیْہِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَی الجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِیْھِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِیْنَ رَجُلًا یَعْمَلُوْنَ مِثْلَ عَمَلِہٖ )) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۲۸۴)