کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 328
کہاں ہیں؟ ان کے اوامر کی تعمیل میں جلدی کرنے والے کہاں ہیں؟ ان کے احکام کو فوراً اپنے آپ پر نافذ کرنے والے کہاں ہیں؟ لمحۂ فکریہ: مسلمانو! قرآن کے مواعظ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی، وقت و زمانے کے قاصد نے ہمیں تنبیہ کی اور ڈرایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردار اور بیدار کیا، ان سب نے کہا کہ دیکھو! عہدِ جاہلیت کی دلدل میں نہ گرنا اور نہ ہی گناہ و نافرمانی کے کیچڑ سے لت پت ہونا، کیا ہم نے ان مواعظ سے فائدہ اٹھایا؟ ہم شب و روز ایسی وعیدیں سنتے رہتے ہیں جو دلوں کو ہلا دینے والی اور نفسوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی ہیں، کیا ہم نے ان وعیدوں سے اپنے قول وعمل میں احتیاط پیدا کی؟ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں آسمان پر جم گئیں اور پھر فرمایا: (( ھٰذَا أَوَانٌ یُّخْتَلَسُ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی لَا یَقْدِرُوْا مِنْہُ عَلٰی شَیْیٍٔ )) ’’یہ وہ زمانہ ہے کہ جب لوگوں سے علم چھن جائے گا اور وہ اس سلسلے میں کچھ بھی نہ کر پائیں گے۔‘‘ سیدنا زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے علم کیسے چھن جائے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں؟ اللہ کی قسم! ہم خود بھی قرآن پڑھیں گے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی سختی کے ساتھ پڑھائیں گے۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا زِیَادُ، إِنْ کُنْتُ لَأَعُدُّکَ مِنْ فُقَھَائِ الْمَدِیْنَۃِ، أَوَ لَیْسَ ھٰذِہٖ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی یَقْرَئُ وْنَ التَّوْرٰۃَ وَالْإِنْجِیْلَ، لَا یَعْمَلُوْنَ بِشَیْیٍٔ مِمَّا فِیْھَا؟ )) [1] ’’اے زیاد! تجھے تیری ماں گم پائے، میں تو تمھیں فقہاے مدینہ میں سے شمار کرتا تھا۔ کیا یہ یہود و نصاریٰ اپنی کتابیں تورات و انجیل نہیں پڑھتے؟ پڑھتے وہ بھی ہیں، مگر ان کے احکام پر عمل کسی چیز پر نہیں کرتے۔‘‘ بعض اہلِ علم نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا ہے کہ جس طرح یہود و نصاریٰ کو تورات و انجیل کو پڑھنے کے باوجود ان پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کوئی فائدہ نہ ہوا، اسی طرح ہی تم بھی ہو گے۔ [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۵۳) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۰۴۸)