کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 327
کوئی مال و دولت بچا نہ سکے گا۔‘‘[1] سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عامر بن مطر رحمہ اللہ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: ’’اگر سب لوگ ایک راستے پر چل نکلیں اور قرآن دوسرے راستے پر ہوا تو تم کیا کرو گے اور کونسا راستہ اختیار کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا: میں قرآن کے ساتھ چلوں گا، اسی کے ساتھ جیوں گا اور اسی کے ساتھ مروں گا۔‘‘[2] اللہ والو! اس وحیِ الٰہی کو صدقِ دل سے اپنا لو، حتی کہ اسے اپنانے کے آثار و نشانات تمھارے اعمال و اقوال اور لین دین کے معاملات میں بھی نظر آئیں۔ تمھاری ساری زندگی کے تمام کاموں سے اس وحی پر عمل کا پتا چلے، اگر تم نے ایسا کر لیا تو زندگی سعادت و خوشی سے گزر جائے گی اور موت بھی دین کے ساتھ وفا کرنے والوں کی طرح آئے گی۔ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے آپ کو کتاب و سنت پر پیش کرے اور دیکھے کہ وہ اہلِ سمع و طاعت میں سے ہے یا افراط و تفریط کرنے والے اور احکام و اوامر کو ضائع کرنے والوں میں سے ہے؟ وہ اتباع و پیروی کرنے والوں میں سے ہے یا خود ساختہ بدعات پر عمل کرنے والوں میں سے ہے؟ اسے اپنے آپ کا جائزہ لے کر خوب احتیاط برتتے ہوئے اپنا طریقہ و عمل صحیح کر لینا چاہیے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اللہ اس بندے پر رحم فرمائے، جس نے اپنے آپ کو اور اپنے عمل کو کتاب اﷲ پر پیش کیا۔ اگر وہ کتاب اللہ پر پورا اترا تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور مزید اطاعت کی توفیق طلب کی، اور اگر وہ کتاب اللہ کے مخالف نکلا تو اپنے نفس پر ناراض ہوا اور فوری طور پر اپنے غلط رویے سے رجوع کر لیا۔‘‘[3] اللہ کے بندو! آپ کے پاس وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ آبِ شیریں کا وہ چشمہ ہے جو کبھی خشک ہونے والا نہیں، وہ خزانہ و چشمہ اللہ کی کتاب قرآنِ کریم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مطہرہ ہیں، ان پر عمل پیرا ہونے والے کہاں ہیں؟ ان کے سامنے سرِ تسلیمِ خم کرنے والے [1] الفتن لنعیم بن حماد (ص: ۳۷۷) شعب الإیمان (۲/ ۲۴۶) [2] مصنف ابن أبي شیبۃ (۷/ ۴۸۵) [3] أخلاق أھل القرآن للآجري (ص: ۳۹)