کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 326
ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتارکر پھینک دیا اور فرمایا: (( یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ إِلٰی جَمْرَۃٍ مِنْ نَارٍ فَیَجْعَلُھَا فِيْ یَدِہٖ )) [1] ’’تم میں ایک شخص جہنم کی آگ کا انگارہ لیتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں رکھ لیتا ہے۔‘‘ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے تو اس صحابی سے کہا گیا: ’’اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور کسی دوسرے کام میں اس سے استفادہ کر لینا۔‘‘ تو اس صحابی نے کہا: ’’نہیں! مجھے اللہ کی قسم ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتار کر پھینک دیا ہے، میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی تعمیل میں آخری حد کو چھوتے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کردہ امور سے اجتناب کی انتہا کرتے ہوئے وہ صحابی کہنے لگا کہ نہیں، اللہ کی قسم! میں اس چیز کو اٹھانے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوں، جسے اتار کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دیا ہے۔ کیا بات تھی ان قدسی نفوس انسانوں کی! فتنوں سے بچاؤ کا ذریعہ: مسلمانو! تمھارے اس دور کی چکا چوند، چمک دمک اور فتنوں سے بچاو کا سب سے پر امن اور محفوظ ترین قلعہ صرف کتاب و سنت اور منہجِ سلف صالحین سے تمسک و عمل ہی ہے، جو ہر فتنے سے بچ نکلنے کا راستہ اور ہر مشکل سے نجات کا ذریعہ ہے۔ سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ اہلِ بصرہ کو وصیت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’قرآن پر عمل کا التزام کرو، یہ دن کی ہدایت اور اندھیری رات کا نور ہے۔ چاہے کیسا ہی فقر و فاقے کا عالم کیوں نہ ہو، اس پر عمل جاری رکھو۔ اگر کسی بلا و مصیبت اور امتحان میں مبتلا کر دیے جاؤ تو اپنے دین کے تحفظ کے لیے اپنے مالوں کو قربان کر دو، اور اگر بات اس سے بھی آگے بڑھ جائے تو دین کی راہ میں اپنی جانیں بھی قربان کردو، کیونکہ حقیقی محروم وہ ہے، جو دین سے محروم ہوا اور صحیح معنوں میں ڈاکا اس پر پڑا، جس کا دین سلب کر لیا گیا ہو۔ جنت مل جانے کے بعد کوئی فقر و تنگدستی نہیں اور جہنم میں چلے گئے تو [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۰۹۰)