کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 325
یہ حکم سن کر میں ساتھیوں کے پاس آیا اور یہ حکم انھیں پڑھ کر سنایا، ان میں سے بعض کے ہاتھ میں جام تھا اور اس میں سے کچھ پی چکے تھے اور کچھ ابھی اس میں باقی بھی تھی، اور کسی کا جام اس کے ہونٹوں تک پہنچ چکا تھا، مگر یہ حکم سنتے ہی انھوں نے جام و سبو توڑ دیے، شراب زمین پر بہا دی اور فوراً زبان سے یہ کلمات جاری ہو گئے: ’’اے اللہ! ہم باز آئے۔ اے ہمارے پروردگار! ہم اس سے باز آئے۔‘‘[1] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس محفلِ شراب کو ذرا تصور میں لائیں اور اندازہ کریں کہ آیت نازل ہوئی جبکہ شراب کے لبالب بھرے پیالے ان کے ہونٹوں تک پہنچے ہوئے تھے، مگر حکمِ الٰہی ان کے شراب کے رسیا ہونٹوں اور شراب کے مابین حائل ہو گیا، جس کے ہاتھ میں جام تھا اس نے اسے توڑ ڈالا، جس نے شراب کا گھونٹ بھر لیا تھا، مگر ابھی نگلا نہیں تھا، اس نے منہ سے حلق کی طرف نہیں اترنے دیا، بلکہ باہر پھینک دیا، مدینہ منورہ کی گلیوں میں شراب کی صراحیاں ٹوٹنے اور شراب کے بہائے جانے سے ایک سیلاب آگیا۔ یہ اللہ جلّ جلالہ کا حکم تھا، جس کو تسلیم کیے اور اپنائے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں۔ پھر جب پردے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا: ﴿ یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلِّ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَ نِسَآئِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴾ [الأحزاب: ۵۹] ’’اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ بہت مناسب ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور ستائی نہ جائیں، اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اس کا فوری اثر یہ ہوا کہ انصار کی عورتیں یوں کپڑوں میں لپٹی ہوئی باپردہ نکلیں، گویا ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں۔‘‘[2] تسلیم و رضا اور اطاعت و فرمانبرداری کی ایک اور روشن مثال وہ ہے جسے حبرِامت اور ترجمانِ قرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کے [1] تفسیر ابن جریر (۵/ ۳۳) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۱۰۱)