کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 323
’’میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کا منظر دیکھا ہے کہ شدید سردی والے دن میں وحی کا نزول شروع ہوا اور جب نزول کا مرحلہ مکمل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پسینہ پسینہ تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نزولِ وحی کے وقت بڑی شدت و کرب محسوس کیا کرتے تھے۔‘‘ اور پھر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وحی کے نزول کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (( أَحْیَانًا یَأْتِیْنِيْ مِثْلَ صَلْصَلَۃِ الْجَرَسِ، وَھُوَ أَشَدُّہٗ عَلَيَّ، فَیَفْصِمُ عَنِّيْ وَقَدْ وَعَیْتُ عَنْہُ مَا قَالَ )) [1] ’’کبھی کبھی تو وحی اس طرح مجھ پر اترتی ہے کہ جیسے کوئی گھنٹی بج رہی ہو اور یہ کیفیتِ نزول میرے لیے سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی ہے تو میں نازل شدہ کلامِ الٰہی کو حفظ کر چکا ہوتا ہوں۔‘‘ یہ وحی ایک عظیم نشانی، قولِ ثقیل اور عظیم منہاج ہے جسے مضبوطی سے پکڑے رکھنے اوراس سے انحراف نہ کرنے کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ﴾ [الجاثیۃ: ۱۸] ’’پھر ہم نے آپ کو دین کے واضح راستے پر قائم کر دیا، سو آپ اسی کی پیروی کرتے رہیں اورنادانوں کی خواہشوں کی پیروی میں نہ پڑیں۔‘‘ نیز فرمایا: ﴿ فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِِلَیْکَ اِِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ . وَاِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ﴾ [الزخرف: ۴۳، ۴۴] ’’پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے، اُسے مضبوطی سے تھامے رکھیں، بے شک آپ راہِ راست پر ہیں، اور یقینا یہ خود آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ سوال کیے جاؤ گے۔‘‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو بتایا ہے کہ ہدایت صرف اسی وحی کو اپنانے میں ہے، چنانچہ [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۲) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۳۳۳)