کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 314
و گوشہ نشینی اور عمل صالح کی وصیت کی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اس عبادت گزار کو جواب میں لکھا: ’’اللہ تعالیٰ نے جس طرح روزی تقسیم کی ہے، اسی طرح اس نے اعمال بھی تقسیم کر رکھے ہیں۔ بعض لوگوں کو نماز میں تو حظِ وافر حاصل ہے مگر روزے میں نہیں اور کسی کو صدقہ و خیرات کی توفیق ارزاں فرمائی ہے، مگر روزے کی نہیں۔ کسی کو جہاد کی اور کسی کو حصولِ علم وتعلیم کی توفیق ملی ہے۔ علم کی نشر واشاعت افضل ترین اعمال میں سے ہے اور مَیں اس بابِ خیر پر راضی ہوں، جو اللہ نے میرے لیے کھول رکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں جس کام میں مشغول ہوں، وہ تمھارے کام (عبادت) سے کمتر نہیں ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم دونوں ہی خیر و بِرّکے کام میں ہیں۔‘‘[1] صدقہ و خیرات کرنے والے اور عابد و زاہد لوگ بھی خیر پر ہیں اور جو لوگ اپنے اوقات اور اموال اللہ کی راہ میں صَرف کرتے ہیں وہ بھی خیر پر ہیں۔ واعظین، دعاۃ الی اللہ، علما و فضلا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرنے والے سب لوگ بھی خیر پر ہیں ، اور وہ لوگ جو اپنے اپنے اختصاصاتِ علمیہ اور اعلی ڈگریوں کے ساتھ دین کی خدمت کر رہے ہیں، وہ سب بھی خیر پر ہیں۔ ان سب کے لیے بنیادی شرط بس ایک ہی ہے کہ اللہ پروردگارِ عالم جس کا کوئی شریک نہیں، اس کے لیے خلوصِ نیت سے اعمال سر انجام دیے جائیں۔ امتِ اسلامیہ میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے بڑی قوتیں اور اعلیٰ صلاحتیں عطا کر رکھی ہیں۔ اگر وہ اپنی ان قوتوں اور صلاحیتوں کو صحیح استعمال میں لے آئیں تو وہ اپنے معاشرے اور اپنی امت کو اتنا نفع و فائدہ پہنچا سکتے ہیں کہ ان کا اپنا، ان کے معاشرے کا اور اس امت کا مقام و مرتبہ کہاں سے کہاں جا پہنچے۔ امام مالک رحمہ اللہ اور فتویٰ دینے میں احتیاط: امام مالک رحمہ اللہ سے اگر کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ سائل سے کہتے: ’’ابھی آپ چلے جائیں، میں اس سلسلے میں مطالعہ و تحقیق کر کے بتا ؤں گا۔‘‘ چنانچہ سائل چلا جاتا۔ امام صاحب اسے جواب دینے میں بڑے تردد سے کام لیتے، لوگوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو وہ رونے لگے اور فرمایا: ’’مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ [1] التمھید (۷/ ۱۸۵)