کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 313
امام العز بن عبدالسلام نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’انتہائی تعجب کی بات ہے کہ مقلدینِ فقہا اپنے امام کی دلیل کے ضعف و کمزوری کو بھی سمجھ لیتے ہیں اور اس کے ضعف کو دورکرنے والا کوئی سہارا بھی نہیں پاتے، اس کے باوجود اس مسئلے میں بھی وہ اسی کی تقلید پر اڑے رہتے ہیں اور اپنے امام کی اندھی و جامد تقلید کی بنا پر اُس امام کا فتویٰ چھوڑ دیتے ہیں، جس کی تائید قرآنِ کریم، سنتِ صحیحہ اور ان کے اپنے مذہب کے صحیح قیاسی اصولوں سے ہوتی ہے۔ وہ صرف اسے چھوڑ ہی نہیں دیتے، بلکہ کتاب و سنت کے مفہوم کو حیلوں بہانوں سے بدلتے اور اپنے امام کی طرف سے اس ’’معرکے‘‘ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے بے کار بلکہ خالص باطل قسم کی تاویلات کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔‘‘[1] ہر شخص خادمِ دین ہے: دوسروں کے اعمال کو حقیر سمجھنا غلط ہے اور یہ گمان کر لینا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے، وہ دوسروں سے افضل و اعلی ہے، اسی طرح کسی تھوڑے سے علم والے کا یہ سمجھ بیٹھنا کہ اس کے مقابلے میں دوسرا کچھ بھی نہیں، یا معمولی ہے، یہ خیال خیالِ خام اور نری جہالت ہے، اسی طرح یہ بھی جہالت و بے علمی کا نتیجہ ہے کہ کسی برائی کو برا کہنے اور کسی نیکی کا حکم دینے والا یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ دوسرے تمام لوگوں سے افضل و برتر ہے۔ یہ ساری استطاعت و قدرت اور امکانیات و مواہب اللہ کی دین ہیں، یہ کسی بندے بشر کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہے۔ یہ وہ عظیم فہم و نظریہ ہے جو امام مالک رحمہ اللہ نے پوری امت کے تمام طبقات کو دیا ہے کہ خدمتِ دین ہر تخصّص اور ہر میدان کے آدمی کے لیے ممکن ہے اور اس میں کسی دوسرے کو دائرہ کار سے خارج کرنے کی بھی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی ، ہر کوئی جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ کام آسان کر دیتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ اور ایک عبادت گزار کے ما بین مکالمہ: امام مالک رحمہ اللہ کے ہم عصر عُبّاد میں سے ایک عبادت گزار نے انھیں خط لکھا اور انھیں تنہائی [1] القواعد الکبری (۲/ ۲۷۴)