کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 312
جب تک کہ ستر اہلِ علم و فضل نے اس کام کے لیے میری اہلیت کا اعتراف نہیں کیا۔‘‘[1] منہجِ دلیل و حجت: امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں بھی ایک انسان ہوں، غلطی بھی کر سکتا ہوں اور صحیح بھی ہو سکتا ہوں۔ میری رائے و فتویٰ کو بغور دیکھ لو، اگر وہ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہے، تو اس پر عمل کرلو۔‘‘[2] اپنے اس قول میں امام مالک رحمہ اللہ نے وہ درمیانہ منہج بیان فرما دیا ہے، جو ائمہ کے لیے تعصّب برتنے، ان کی اندھی تقلید کرنے اور صحیح دلائل کا انکار کرنے والوں اور کبار ائمہ کرام کے اقوال کا بالکلیہ انکار کرنے والوں اور یہ کہنے والوں کے درمیان والا منہج ہے کہ وہ بھی اہلِ علم تھے اور ہم بھی اہلِ علم ہیں۔ اِن لوگوں اور اُن لوگوں کے ما بین زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہ لوگ تو وہ تھے کہ انھیں فوت ہوئے صدیاں گزر گئی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی شہرت کو دوام بخشا ہوا ہے اور ایک یہ لوگ ہیں کہ ابھی زندہ ہیں لیکن ان کا کوئی علمی وزن ہے نہ شہرت و نیک نامی۔ اُن لوگوں کے تذکرے سے دلوں کو زندگی و تازگی ملتی ہے اور اِن کی مجلسوں میں بیٹھنے سے دل مردہ ہو جاتے ہیں۔ اگر امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ر حمہم اللہ کا ذکر کیا جائے، تو ان کی علمی قدآور شخصیات کے سامنے یہ بونے لگتے ہیں۔ وہ ائمہ صرف علمی نصوص و عبارات کے حافظ و خزانے ہی نہیں تھے، بلکہ وہ اخلاق و آداب کی چوٹیوں تک پہنچے ہوئے تھے۔ تقویٰ و عبادت، زہد و ورع اور خشیتِ الٰہی وغیرہ تمام امور میں وہ صحیح معنوں میں عالم تھے۔ جامد اور اندھی تقلید: ائمہ کی پیروی کرنے والوں میں سے ایک گروہ ان لوگوں کا بھی ہے، جنھیں صرف تقلید ہی اچھی لگتی ہے اور وہ اپنے متبوع امام کے اقوال سے سرِ مو آگے پیچھے نہیں ہوتے، حالانکہ حق و باطل کے ما بین فرق و تمییز کی قدرت ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی طرف جلیل القدر عالم [1] الدیباج المذھب (۱/ ۲۱) [2] الإحکام في أصول الأحکام لابن حزم (۶/ ۲۹۴)