کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 311
تعلیم و تربیت اور ماحول: مدینہ طیبہ میں ولادت و تربیت کا امام مالک رحمہ اللہ کی تربیت اور تعمیرِ کردار و شخصیت میں بڑا گہرا اثر اور عمل دخل تھا۔ ان دنوں یہ مقدس و مبارک شہر علما اور تابعین سے بھرا ہوا تھا، اسی میں سب سے بڑی یونیورسٹی اور سب سے پہلا مدرسہ ’’مسجدِ نبوی‘‘ ان سب کے لیے علم کا گہوارہ تھی، اس میں موجود تمام حلقاتِ علم میں سے ہر حلقے میں ایک معروف عالم بیٹھتا تھا۔ وہ لوگ جو اپنے بچوں کو صحیح و صالح تربیت سے مزین کرنا چاہتے ہیں، انھیں چاہیے کہ انھیں ایسے تعلیمی گہوارے مہیا کریں، جو دینی اعتبار سے اطمینان بخش اور اخلاقی اعتبار سے صحیح و صالح ہوں، تاکہ نوجوانوں کا کردار اور سیرت و اخلاق صاف ستھرے ہوں۔ شاید یہ بات کہنا ضروری نہیں کہ برا ماحول بناتا نہیں بگاڑتا ہے۔ صبح کے وقت اگر لڑکے کو اسلامی اخلاق و آداب کی تعلیم دی گئی اور شام کو وہ برے لڑکوں کی صحبت میں جا بیٹھا تو صبح کا پڑھا ہوا سبق وہ بھلا دیں گے اور اخلاق کی جگہ فساد و بگاڑ داخل کر دیں گے۔ اگر بچے کو سالہا سال اچھے آداب و اخلاق کی تعلیم دی گئی، پھر اس کے والدین اسے کسی ایسے غیر اسلامی ملک میں لے گئے، جہاں کی فضائیں فسق و فجور سے معمور ہیں، تو اس بیچارے میں سابقہ اخلاق و آداب میں سے کیا رہ جائے گا۔ وہ تو ابھی نرم و نازک کونپل کی طرح ہے، اس کا عقیدہ بگڑ جائے گا، ایمان کمزور پڑ جائے گا اور کردار و اخلاق کی قدریں ڈگمگا جائیں گی۔ منصبِ افتا پر رونق افروزی: امام مالک رحمہ اللہ مسندِ افتا پر تب رونق افروز ہوئے، جب ستر جید علما نے گواہی دی کہ اب آپ اس کام کے لائق ہو چکے ہیں، اس طرح انھوں نے ’’اپنے منہ میاں مٹھو بننے‘‘ اور اس عظیم منصب پر قابض ہونے والے اور اس شخص کے درمیان فرق کر دیا، جسے اہلِ علم و فضل اس منصب کا اہل قرار دیں۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہر وہ شخص جو مسجدمیں تدریس و افتا کے لیے بیٹھنا چاہے، اسے یہ نہیں کرنا چاہیے کہ جب چاہا بیٹھ گیا، بلکہ اسے اہلِ علم و فضل اور اہلِ صلاح سے مشورہ کر لینا چاہیے، اگر وہ اسے اس کام کا اہل سمجھیں تو بیٹھ جائے ورنہ نہیں۔ میں اس وقت تک مسندِ تدریس و افتا پر نہیں بیٹھا