کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 309
والدہ کی تربیت: امام مالک رحمہ اللہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے ، علم کی محبت میں پرورش پائی، فقر و تنگدستی ہونے کے باوجود حصولِ علم سے پیچھے نہ ہٹے، ان کی والدہ نے انکی بہترین تربیت کی اور ان سے مخاطب ہو کر فرمایا : ’’جاؤ امام ربیعۃ الرائے کے حلقۂ درس میں شریک ہو جاؤ اور ان کے علوم و معرفت سے فیض یاب ہونے سے پہلے ان کے اخلاق و کردار اور آداب سے بہرہ ور ہونے کی کوشش کرو۔ ‘‘[1] اس خاتون کو زندگی میں اپنی ذمے داری، تربیت میں اپنے حصے اور نوخیز نسل کی تعلیم و تربیت میں اپنے فرائض کا خوب احساس تھا، وہ یہ جانتی تھی کہ آدابِ زندگی بھی علم و آگہی کے ساتھی ہوتے ہیں اور آداب کو اپنائے بغیر علم کی کوئی قیمت نہیں۔ علم کے اول و آخر اورحصولِ علم کے دوران میں ہر موقع پر آداب و اخلاقِ فاضلہ کو اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس خاتون نے اپنے حسنِ تربیت و اہتمام سے ایک ایسا آدمی پروان چڑھایا جو پوری امت کی تعمیر و اصلاح کا باعث بن گیا۔ ماؤں کی ذمے داریاں: ماں کی ذمے داری صرف یہی نہیں کہ وہ بچے کو جسمانی غذا مہیا کرے اور امراض وغیرہ سے اس کے بچاو پر توجہ دے، بلکہ اس کی ذمے داریاں اس سے کہیں عظیم و جلیل القدر اور ارفع و اعلا ہیں۔ ماں کی ذمہ داری بچے کے ایمان کی تقویت و پختگی، اس کی شخصیت کی بہترین تعمیر، اس کی عقل و دانش کی ترقی اور بلندیوں کو پانے کے لیے اس کی ہمت افزائی کرنا بھی ہے، اور یہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب وہ دنیا کے دیگر تمام فکروں سے آزاد ہو کر بچے کی تعلیم و تربیت کے عظیم کام پر ڈٹ جائے۔ ماں کے چند کلمات پر مشتمل اس قولِ زریں نے امام مالک رحمہ اللہ کی زندگی کو قولی نہیں بلکہ حقیقی و عملی اور محض خیالی نہیں بلکہ واقعی رنگ میں رنگ دیا۔ وہ آداب سکھانے کا ایسا مدرسہ بن گئے کہ دوسرے طالب علم ساتھی ان سے وضع قطع اور اخلاق و آداب کا سبق لیتے اور آج پوری امت ان کی حیات و سیرت سے روشنی حاصل کر رہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے ایک قریشی نوجوان ساتھی سے کہا تھا: [1] التمھید لابن عبد البر (۳/ ۴)