کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 308
چوتھا خطبہ امام مالک بن انس رحمہ اللہ ( سوانح خاکہ اور حسین نامہ اعمال کی ایک جھلک ) امام و خطيب :فضيلة الشيخ عبد الباري الثبيتي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: علماے کرام کے بارے میں گفتگو: علماے کرام کی عظیم ہستیوں کے بارے میں گفتگو کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ آپ ان کی زندگی کا احاطہ کرنے کی جتنی بھی کوشش کر لیں، آپ کا قلم ان کے حالات کو مکمل طور پر بیان کرنے سے عاجز اور علم قاصر رہے گا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ بعض اہم اور پُرتاثیر امور آپ سے چھوٹ جائیں۔ پہلے علماے عظام کی سیرتیں بہترین نمونہ ہیں۔ انھیں اجاگر کرنا نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے استفادے کے لیے بہت ضروری ہے، تاکہ وہ ایسے گرے پڑے مغربی لوگوں اور ان آئیڈیلز کی طرف متوجہ نہ ہوں، جن کا اس زندگی میں کوئی وزن ہے نہ تاریخ میں کوئی قیمت ہے۔ علما کے بارے میں گفتگو کرنا، ان میں سے کسی کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعصب کی بنا پر ہرگز نہیں، کیونکہ ہر انسان کی کوئی بات قابلِ قبول ہو سکتی ہے اورکوئی قابلِ رد سوائے نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ امامِ دار الہجرۃ: ہمارے آج کے ممدوح وہ عظیم شخصیت ہیں جو مدینہ طیبہ ہی میں پلے بڑھے اور اس کے سرچشمہ ہائے علم و معرفت سے سیراب ہوئے۔ ان کا ذکر و شہرت چہار دانگ عالم میں پھیل گئی اور ان کے علم سے زمین بھر گئی۔ وہ علومِ شریعت کے درس و تدریس کے لیے مسجدِ نبوی کے ریاض الجنۃ میں بیٹھے اور اسی تعلق سے ایسے مشہور ہوئے کہ اگر ’’عالمِ مدینہ‘‘ یا ’’امامِ دار الہجرۃ‘‘ کہا جائے تو ان کے سوا کسی دوسرے کی طرف نگاہ ہی نہیں جاتی۔