کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 306
﴿ یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓئٍ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَھَا وَ بَیْنَہٗٓ اَمَدًا م بَعِیْدًا وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ وَ اللّٰہُ رَئُ وْفٌم بِالْعِبَادِ﴾ [آل عمران: ۳۰] ’’جس دن ہر شخص اپنی کی ہوئی نیکیوں کو اوراپنی کی ہوئی برائیوں کو موجود پا لے گا، آرزو کرے گا کہ کاش! اس کے اور برائیوں کے درمیان بہت ہی دوری ہوتی، اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے۔‘‘ مسلمانو! نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو گیا ہے، علوم و معارف کی فضیلت اور قدر و منزلت ان کے مقاصد کے اعتبار سے مختلف ہے۔ انسان کے لیے سب سے افضل و اعلیٰ اور سب سے زیادہ نفع بخش علم وہ ہے جس کے ذریعے اسے قلبی سعادت و خوشی اور انشراحِ صدر حاصل ہو اور وہ صرف وہی علم ہو سکتا ہے، جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ ہو۔ کسی شخص کی کمائی اس شخص جیسی ہر گز نہیں ہو سکتی جس نے ایسا علم حاصل کیا جو اسے ہدایت کی طرف لے جائے یا تباہی و ہلاکت سے بچا لے۔ جب عقول و اخلاق کی حفاظت کی جائے اور دینِ متین کی باڑھ کے ساتھ انھیں چاروں طرف سے گھیرے رکھا جائے اور صحیح عقیدے کے مضبوط بندھن کے ساتھ اسے مربوط کیے رکھیں تو عمل خود بہ خود صحیح ہو جاتا ہے۔ علم اور خلوصِ نیت و امانت داری: علم حاصل کرنے کے لیے لازماً محنت و مشقت اٹھانا پڑے گی۔ جو شخص حصولِ علم کے لیے گھڑی بھر کی مشقت برداشت نہیں کرتا، وہ عمر بھر جہالت و ناخواندگی کی ذلت و رسوائی سے دوچار ہوجاتا ہے۔ علم کے لیے طالبِ علم اور معلم دونوں کی طرف سے خلوصِ نیت اور اخلاص للہ کی ضرورت ہے، ان کے بغیر کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ لہٰذا طلبہ و مدرسین سب کو صالحینِ امت کے اوصاف اپنانے چاہییں، جنھوں نے علم سے محبت کی، پھر انھیں دنیا میں پھیلایا اور خود اس کے تقاضوں پر عمل کرکے بھی دکھایا، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ لٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَ بِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ﴾ [آل عمران: ۷۹]