کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 305
’’ میری امت کے تمام گناہ گاروں کو معاف کیا جائے گا سوائے ان کے جو علی الاعلان گناہوں کا ارتکاب اور تذکرہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں اگر معصیت و گناہ ظاہر ہوں تو نعمت چِھن جاتی ہے، اور جب معصیت کسی دل پر قبضہ جما لے تو وہ اسے فساد و بگاڑ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یوں جو نعمتیں موجود ہوتی ہیں، وہ زائل ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور جن نعمتوں کی آمد متوقع ہوتی ہے وہ رک جاتی ہیں۔ محاسبۂ نفس اور توبہ: لہٰذا اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہا کریں اور سوے خاتمہ ، شیطانی چالوں اور خواہشاتِ نفس کی پھسلاہٹوں سے ہوشیار رہیں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک نگاہ و نظر کا جواب دینا ہوگا۔ تقصیر و کوتاہی پر اپنے نفس کو ملامت کریں اور اگر آپ کی عمر طویل ہو رہی ہے تو اللہ کی اس ڈور کو ڈھیلا چھوڑنے پر اس کی حمد و ثنا بیان کریں اور جلد اپنے گناہوں سے توبۂ نصوح کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے خوش ہوتا ہے۔ توبہ کرنے میں آج کل اور ڈھیل نہ کریں۔ جس نے ڈھیل کی وہ کامیابی نہ پا سکا، بلکہ اس کی گاڑی چھوٹ گئی، لقمان علیہ السلام کی وصیتوں میں سے یہ بھی تھی کہ اے میرے بیٹے! توبہ میں تاخیر نہ کرنا، کیونکہ موت تو اچانک بھی آ سکتی ہے۔[1] لہٰذا خوش نصیب ہے، جو اپنے نفس سے اپنے لیے حصہ لے لے اور موت سے پہلے پہلے اس کے لیے تیاری کرلے۔ امام وہب بن منبّہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’جس نے شہوت کو اپنے قدموں کے نیچے رکھا، شیطان اس کے سائے سے بھی ڈرتا ہے۔‘‘[2] لہٰذا اپنی خواہشاتِ نفس پر قابو رکھو، اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو، برائیوں کو ترک کرو، موت کے بعد والی دوسری زندگی کے لیے تیار رہو، جو کوتاہیاں ہوئیں ان کا استدراک کرو، دنیا سے روانگی کا وقت قریب آچکا ہے۔ جس نے اپنی بقیہ زندگی کی اصلاح کر لی، اسے اس کی پہلی زندگی کے گناہ بخشے گئے اور جس نے بقیہ زندگی میں برائیاں کیں اسے پہلی زندگی پر بھی پکڑ ہوگی اور بقیہ پر بھی۔ دن سواریاں ہیں اور سانسیں آگے کی جانب بڑھتے ہوئے قدم۔ ارشادِ الٰہی ہے: [1] شعب الإیمان (۵/ ۴۳۹) [2] حلیۃ الأولیاء (۴/ ۶۰)