کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 304
خیانت کرتا ہے اور ان کی صحیح دیکھ بھال میں بھی کوتاہی کا ارتکاب کرتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَھُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَھُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اَلَا سَآئَ مَا یَزِرُوْنَ﴾ [النحل: ۲۵] ’’اسی کا نتیجہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے پورے بوجھ کے ساتھ ہی ان کے بوجھ کے بھی حصے دار ہوں گے، جنھیں بے علمی سے گمراہ کرتے رہے، دیکھو تو کیسا برا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔‘‘ مال و دولت اور اولاد و عافیت کی نعمتوں پر اس طرح انکار و کفرانِ نعمت تو ہر گز روا نہیں ہے۔ والدین سے تو یہ امید کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اصلاح کی کوشش کریں گے نہ کہ وہ خود اپنے ہاتھوں انھیں فتنہ و فساد سے بھرپور اور دلوں میں ظلمتیں اور سیاہیاں پیدا کرنے والے مقامات پر لے جا پھینکیں گے اور نہ وہ انھیں اس اندھے کنویں میں دھکیل دیں گے جہاں اخلاق و کردار میں انحراف کے لیے ادنیٰ اشارے کی ضرورت ہے۔ بعض اہلِ علم نے کہا ہے: ’’ شکوک و شبہات اور نفسانی خواہشات و شہوت ہی بندے کے لیے فساد و بگاڑ کی جڑہیں اور ان ہی سے اس کے معاشی معاملات اور آخرت کی زندگی میں شقاوت و بدبختی آتی ہے۔‘‘ اپنے گناہوں کا اشتہار دینے والے: بعض لوگ ایسے گندے ملکوں سے لوٹتے ہیں تو شرم و حیا کی چادر بھی اتار پھینکتے ہیں اور وہاں دیارِ کفر میں انھوں نے جہاں جہاں اور جیسے جیسے منہ کالا کیا ہوتا ہے، بڑی ڈھٹائی سے انھیں بیان کیے چلے جاتے ہیں، اللہ نے جو پردہ، ان کے عیوب و سیاہ کاریوں پر ڈالا ہوا ہوتا ہے اسے وہ خود اپنے ہی ہاتھوں سے تار تار کر دیتے ہیں، یوں وہ سننے والوں کے سامنے ان گناہوں کو رنگین کرکے بیان کرکے اور ان افعالِ قبیحہ کی شان میں قصیدہ گوئی کرکے لوگوں کو ان گناہوں کی رغبت دلاتے ہیں، جبکہ گناہ و معصیت پر فخر کرنا دل کی موت کی علامت ہے۔ اسی طرح یہ فطرت کے فساد و بگاڑ کی علامت بھی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : (( کُلُّ أُمَّتِيْ مُعَافًی إِلَّا الْمُجَاھِرِیْنَ )) [1] [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۵۷۲۱) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۹۹۰)