کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 300
تیسرا خطبہ چھٹیاں ( حکمتیں اور نصیحتیں ) امام و خطيب: فضيلة الشيخ عبد المحسن القاسم حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا اور ان کی تقدیر مقرر فرمائی اور ان کی عمریں طے کیں۔ صبح و شام کی گردش اور ماہ و سال کی آمد و رفت کے ساتھ ہی قوموں کی آمد و رفت لگی ہوئی ہے، کوئی آرہی ہے اور کوئی جا رہی ہے۔ دنیا میں زندگی کا یہ سلسلہ اپنی تمام عادات و سنن اور حکمتوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ لوگ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، کوئی مطیع و تابع فرمان ہے، کوئی سرکش و نافرمان ہے، کوئی مومن ہے اور کوئی کافر ہے۔ سالانہ چھٹیوں کا موسم اختتام کو پہنچا۔ اس موسم کے دامن میں کتنی ہی حکمتیں، عبرتیں، دروس، نصیحتیں اور واقعات موجود ہیں۔ کچھ لوگ سعادت مند و خوشحال ہیں اور بعض انہی کی وجہ سے شقاوت و بدبختی سے دو چار ہوگئے ہیں۔ کچھ وہ لوگ ہیں، جن کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ دن جلد ختم ہو، تاکہ اس کے ساتھ ہی اس کے غم اور پریشانیاں بھی ختم ہوں اور بعض لوگ وہ ہیں جو چاہتے ہیں کہ آج کے دن کی کبھی انتہا نہ ہو، تاکہ وہ نازو نعمت اور لذت و سرور سے شاد کام رہیں۔ دروس و عبرتیں: ایسے احوال و واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو عقل مند کے لیے نصیحت و عبرت کا باعث بنتے ہیں اور جاہل کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔ امام ربیع بن خثیم رحمہ اللہ سے کہا گیا: تم نے کس حال میں صبح کی ہے؟ انھوں نے فرمایا: ’’ ہم نے بڑی ہی کمزور حالت اور گناہوں میں لت پت صبح کی ہے، ہم روزی کھاتے