کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 296
’’میں تو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم و تکمیل ہی کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ برادرانِ اسلام! ہمارا دین علوم و معارف کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے کی ترغیب دلاتا اور ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، کیونکہ ان علوم و معارف کے ذریعے ہی افراد اور معاشرے مفید اور نفع بخش اشیا حاصل کر سکتے ہیں، اور اسی ہی سے اس زمین کی یوں تعمیر و آبادی ہوگی، جیسے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَسَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ﴾ [الجاثیۃ: ۱۳] ’’اور اس (اللہ) نے تمھارے لیے زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں مسخر کردی ہیں۔‘‘ غرض تمام وہ علوم و معارف جو احترمِ عمل کے اصول کو مانتے اور ہر تعمیری فعل کے بارے میں صحیح نظریات و مفاہیم کو ذہنوں میں راسخ کرتے ہیں، وہ سب اس دین کو مطلوب ہیں، جن کے بل بوتے پر ایک ایسی مومن نسل وجود میں آئے، جو اپنے دین اور دنیا کے لیے کام کرنے والی ہو، اپنی امت اور معاشرے کی ترقی میں ہاتھ بٹائے اور اپنے معاشرے کو تہذیب و تمدن اور صنعت و حرفت کے تمام میدانوں میں عروج پر لے جائے اور یہ سب کچھ اس باعزت طرزِ زندگی کے عین مطابق ہو، جس میں اللہ کے حکم سے امت اسلامیہ کے لیے عزت و شرف، بلندی اور سیادت و قیادت کی ضمانت موجود ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: (( اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَیْرٌ وَ أَفْضَلُ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ، وَفِيْ کُلٍّ خَیْرٌ )) [1] ’’طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے، اگرچہ دونوں ہی میں خیر و بھلائی موجود ہے۔‘‘ معلمین اور مدرسین کی ذمے داریاں: تعلیم و تربیت کے ذمے دارو! یہ تمام اہداف و مقاصد تمھارے نصب العین ہونے چاہییں اور ان سب کا نوجوان نسل کے دلوں میں بیج بونا تمھارا مقصود و مطلوب ہونا چاہیے، ایسی نسل وجود میں لایئے جو پہلے دینِ اسلام کی اور پھر امتِ اسلامیہ کی خدمت گزار ہو۔ تعلیم و تربیت کے ذمے دارو! اپنی تمام تر توانائیاں صَرف کرکے نوجوان نسل کو ایسی تربیت دو جو ان کے دلوں میں دینِ اسلام اور نبیِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی محبت اور وَلاے صادق [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۶۴)