کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 294
تعلیم کے اغراض و مقاصد: ہر قوم کے تعلیم سے کچھ اغراض و مقاصد وابستہ ہوتے ہیں، لہٰذا تمام اقوامِ عالم اپنے اپنے اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتی ہیں، جن میں سب سے اہم ترین مقصد نوجوان نسل کو روحِ تربیت، اس کے مفاہیم اور اس کی انواع و اشکال سے مزین کرنا ہے۔ ایک ماہرِ تربیت سے کسی قوم کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا: ’’مجھے اس قوم کی تعلیم کا منہج و طریقہ اور کورس بتائیے، میں تمھیں اس قوم کے مستقبل کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔‘‘ متعدد اقسام کی تعلیم اور مختلف شکلوں کی تربیت ہی نوجوان نسلوں کو صحیح پروان چڑھانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، وہ نسلیں جو کہ امت کے اصول و مبادیات پر ایمان رکھتی ہیں اور یہی دونوں چیزیں (تعلیم و تربیت) ہی پورے انسانی معاشرے کو امت کی روح اور اس کے مفاہیم کے ساتھ چلانے کا واحد ذریعہ ہیں۔ اسلام کی نظر میں علم اللہ کے حکم سے امت کی ترقی کا ضامن ہے۔ اسی کی بدولت امت مکارمِ اخلاق، اعلیٰ کردار، ترقی، تہذیب و تمدن، سعادت و خوشحالی اور صلاح و فلاح کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتی ہے۔ امتِ محمدیہ ایک ایسے عقیدے والی امت ہے، جو ایک انتہائی اعلیٰ پیغام اور منہجِ ربانی پر قائم ہے، اس سے ایک ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ کی شریعت کے احکام نافذ کردے۔ لہٰذا اس میں تعجب والی کوئی بات نہیں کہ مختلف انواع و اقسام کی تعلیم ان نسلوں کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہے، جو اس بنیادی و مضبوط اصولِ شریعت اور صحیح عقیدہ پر ایمان رکھتی ہے، جو ہمیں مشکاتِ نبوت اور رسالتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے۔ علم کے فوائد و ثمرات: اسلام حصولِ علم کی ترغیب دلاتا اور تربیت پر اپنی توجہ کو مرکوز کیے ہوئے ہے، اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اس طرف بھی دیکھتا ہے کہ یہ ایسی بنیادوں اور اصول و قواعد پر قائم ہو جو اس بات کی ضمانت دیں کہ یہ علم لوگوں کے دلوں میں اس کائنات کے خالق کے بارے میں صحیح عقیدے اور نظریے کو جاگزیں کرے گا۔ اس مفہوم و روح کی تخم ریزی کرے گا، جو کردار و نظریات کی اصلاح