کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 293
دوسرا خطبہ تعلیم و تربیت کے اسلامی اہداف امام و خطیب : فضيلة الشيخ حسين بن عبد العزيز آل شيخ حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اسلام میں حصولِ علم اور دوسروں کو تعلیم دینا بہت ہی مقام و مرتبہ اور اعلیٰ شان و عظمت والا عمل ہے۔ اسی کے ذریعے رفعتیں حاصل ہوتی اور بے شمار فوائد میسر آتے ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾ [المجادلۃ: ۱۱] ’’تم میں سے جو لوگ ایمان والے ہیں اور علم دیے گئے ہیں، اللہ ان کے درجات کو بلند و بالا کرتا ہے۔‘‘ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ سَلَکَ طَرِیْقاً یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِہٖ طَرِیْقاً إِلَی الْجَنَّۃِ )) [1] ’’جو شخص حصولِ علم کے راستے پر چل نکلا، اس کے عوض اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔‘‘ حصولِ علم ایک فریضہ ہے: حصولِ علم و معرفت کی دعوت ہر کسی کے لیے عام ہے، جو زندگی کے تمام شعبوں اور میدانوں کو شامل ہے، اسی سے افراد اور معاشروں کی اصلاح عمل میں آتی ہے۔ حدیث شریف میں ہے: (( طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ )) [2] ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و زن) پر فرض ہے۔‘‘ [1] صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۹۹) [2] سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۲۲۴)