کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 292
ضمن میں نہیں آتا)۔ 2۔اسی طرح جو شخص کہیں کوئی برائی ہوتے دیکھے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ مجاز افسر کو اس کی خبر دے جو اس برائی کو ختم کرنے کا اختیار و قدرت رکھتا ہو اور گناہ گار کو زجر و توبیخ کر سکتا ہو۔ 3۔ایسے ہی کسی مفتی سے فتویٰ طلب کرتے وقت بھی کسی ظالم کے ظلم کی تفصیل بتائی جاسکتی ہے، تاکہ وہ صحیح طور پر فتویٰ صادر کرسکے اور وجۂ حق بیان کر سکے۔ 4۔اس آدمی کو بھی کسی کے عیوب اور حالات صحیح صحیح بیان کر دینے کی اجازت ہے جس سے کوئی شخص کسی کے بارے میں مشورہ طلب کرے، لیکن اس مشیر کو قطعاً اجازت نہیں کہ وہ اس متعلقہ شخص کے عیوب پر پردہ پوشی کر کے اس مشورہ پوچھنے والے کو اس کے دھوکے اور فریب میں پھنسا دے۔ ان مذکورہ حالات میں کسی کی غیبت کرنا مباح و روا ہے۔ سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون، و سلام علی المرسلین، والحمد للّٰه رب العالمین۔