کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 287
شامت تمھاری ہی وجہ سے ہے، اگر تم سیدھی رہو گی تو ہم بھی بچے رہیں گے اور اگر تم ٹیڑھی چلو گی تو ہماری شامت آئے گی اور ہمیں بھی ٹیڑھے ہونا پڑے گا۔‘‘ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے بچا دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِیْمٍ، وَإِنَّہٗ لَیَسِیْرٌ عَلٰی مَنْ یَّسَّرَہٗ اللّٰہُ عَلَیْہِ، تَعْبُدُ اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا، وَ تُقِیْمُ الصَّلَاۃَ، وَتُؤْتِيْ الزَّکٰوۃَ، وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا )) ثم قال: (( أَلَا أَدُلُّکَ عَلٰی أَبْوَابِ الْخَیْرِ؟ اَلصَّوْمُ جُنَّۃٌ، وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِیئُ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیئُ الْمَائُ النَّارَ، وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ )) ثمّ تلا: ﴿تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ . فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾ [السجدۃ: ۱۶، ۱۷] ثمّ قال: (( أَلَا أُخْبِرُکَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُوْدِہٖ وَ ذِرْوَۃِ سَنَامِہٖ؟ )) قلت: بلی یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ، قال: (( رَأْسُ الْأَمْرِ اَلْإِسْلَامُ، وَعَمُوْدُہٗ الصَّلاَۃُ، وَذِرْوَۃُ سَنَامِہٖ الجِھَادُ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ )) ثمّ قال: (( أَلَا أُخْبِرُکَ بِمَلَاکِ ذٰلِکَ کُلِّہٖ؟ )) قلت: بلی یا رسول اللّٰه ، فأخذ بلسانہ، و قال: (( کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا )) قلت: یا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ، و إنا لمؤاخذون بما نتکلم بہ؟ فقال: (( ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ، وَھَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِيْ النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِھِمْ )) [1] ’’تم نے بہت بڑی بات پوچھی ہے، البتہ یہ بہت ہی آسان ہے اس کے لیے جس کے لیے اللہ اسے آسان کر دے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ شریف کا حج کرو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں تمھیں ابوابِ خیر (بھلائیوں کے دروازوں) کے بارے میں خبر نہ دوں؟ روزہ (آگ سے) ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو یوں مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کی نماز ِ تہجد۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کلمات کی تلاوت فرمائی، جن میں ارشادِ الٰہی ہے: [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۶۱۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۹۷۳)