کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 283
پہلا خطبہ غیبت اور چغلی امام و خطيب :فضيلة الشيخ عبد الباري الثبيتي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو: ﴿ وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْہِ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَ ھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۲۸۱] ’’اور اس دن سے ڈرو، جس میں تم سب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ غیبت اور چغلی کے دنیا میں برے اثرات: کبیرہ گناہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کی شقاوت و بدبختی اور شر و عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔ گناہوں میں سے بدترین گناہ وہ ہے، جس کا ضرر و نقصان اور خطرات زیادہ ہوں۔ ایسے ہی بد ترین کبیرہ گناہوں میں سے ایک غیبت اور چغل خوری بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب قرآن کریم میں اور اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے حرام قرار دیا ہے، کیونکہ یہ دلوں میں بگاڑ اور باہم دوری پیدا کرنے والے گناہ ہیں، یہ نفرتوں اور شر و برائی کا بیج بوتے اور پھر انتہائی فتنوں کو جنم دیتے ہیں، پھر انتہائی مہلک نتائج تک کھینچ لے جاتے ہیں اور ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کو اس کی ندامت کا سامان کر دیتے ہیں جبکہ ندامت کسی کام نہیں آئے گی۔ یہ اعمال اختلاف کی خلیج کو بڑھا دیتے ہیں، باہمی حسد و حقد پیدا کرتے ہیں، اعزا و اقارب، دوست و احباب اور ہمسایوں کے مابین عداوت و دشمنی پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں، انہی کی وجہ سے نیکیوں میں کمی اور گناہوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یہ بندے کو ذلت اور رسوائی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔