کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 279
ہو کر کام کرو جو تمھارے امن و استقرار کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے، تمھاری کامیا بیوں اور ترقیوں کے مظاہر سے کھیلنا چاہتا ہے اور تمھارے معاشرے میں بدانتظامی و انارکی پھیلانا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّکْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَکْسِبُہٗ عَلٰی نَفْسِہٖ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا﴾ [النساء: ۱۱۱] ’’جو کوئی گناہ کرتا ہے، اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور اللہ بڑا علم والا اور بڑی حکمت و دانائی والا ہے۔‘‘ نیز ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ لَیْسَ بِاَمَانِیِّکُمْ وَ لَآ اَمَانِیِّ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئً ا یُّجْزَ بِہٖ وَ لَا یَجِدْ لَہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَ لِیًّاوَّ لَا نَصِیْرًا﴾ [النساء: ۱۲۳] ’’حقیقتِ حال نہ تو تمھاری آرزو کے مطابق ہے اور نہ اہلِ کتاب کی امیدوں پر موقوف ہے، جو برا کرے گا، اس کی سزا پائے گا، اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حامی و ناصر نہ پائے گا۔‘‘ شکرِ نعمتِ ۔۔۔ ازدیادِ نعمت کا باعث ہے: اللہ والو! تم پر اللہ کی بے شمار نعمتیں ہیں، اس کی انہی نعمتوں کی وجہ سے تمھارے دشمن تم پر حسد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ میرا شکر ادا کرو اور یہ وعدہ کیا ہے کہ میں اپنی نعمتوں میں اور اضافہ کر دوں گا، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَاذْکُرُوْنِیْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَ لَا تَکْفُرُوْنِ﴾ [البقرۃ: ۱۵۲] ’’تم میرا ذکر کرو میں تمھیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میرے ساتھ کفر نہ کرو۔‘‘ نیز ارشادِ گرامی ہے: ﴿ وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ﴾ [إبراھیم: ۷] ’’اور اگر تم (میرا) شکر کرو گے تو میں اپنی نعمتیں تم پر زیادہ کروں گا، اور اگر (میری نعمتوں کی) نا شکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔‘‘