کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 276
ختم ہوتی ہیں اور حقوق و اموال کا تحفظ ہوتا ہے، روزی روٹی آسان ہوتی ہے اور دنیا کی تعمیر و ترقی اور آبادی و آباد کاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ امن ہی کی بدولت زندگی اپنے تمام شعبوں میں نکھار پاتی اور خوشحال ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمتِ امن و امان کو اپنی مخلوقات پر اپنے احسانات میں سے شمار کیا ہے، تاکہ وہ اس کا شکر کریں اور اس امن و امان کے سائے میں اس کی عبادات بجا لائیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ اَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْئٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴾ [القصص: ۵۷] ’’کیا ہم نے انھیں امن و امان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟ جہاں تمام چیزوں کے پھل کھچے چلے آتے ہیں، جو ہمارے پاس بطورِ رزق کے ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ نیز ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ ھٰذَا الْبَیْتِ . الَّذِیْٓ اَطْعَمَھُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَھُمْ مِّنْ خَوْفٍ﴾[القریش: ۳، ۴] ’’پس انھیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں، جس نے انھیں بھوک میں کھانا کھلایا اور ڈر (خوف) میں امن (و امان) دیا۔‘‘ سیدنا عبیداللہ بن محصن انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: (( مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ آمِناً فِيْ سَرْبِہٖ، مَعَافًی فِيْ جَسَدِہٖ ، عِنْدَہٗ قُوْتُ یَوْمِہٖ، فَکَأَنَّمَا حِیْزَتْ لَہُ الدُّنْیَا بِحَذَافِیْرِھَا )) [1] ’’جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے گھر میں پر امن ہے اور جسمانی طور پر صحت مند ہے اور اس کے پاس اس ایک دن کے کھانے پینے کا انتظام ہے تو وہ ایسے ہی ہے کہ جیسے دنیا بھر کی نعمتیں اس کے گھر سمٹ آئی ہیں۔‘‘ امن و امان کے لیے اسلام کے اقدامات: اسلام نے اپنے معاشرے میں امن و امان کو عام کرنے کا سخت اہتمام کیا ہے، قوانین بنائے [1] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۳۴۶) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۴۱۴۱)