کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 275
چوتھا خطبہ نعمت امن و امان امام و خطيب :فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: مخلوق پر اللہ تعالیٰ کی لا تعداد اور بے شمار نعمتیں ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ لَا تُحْصُوْھَا اِنَّ اللّٰہَ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ [النحل: ۱۸] ’’اگر تم اس کی نعمتوں کی گنتی کرنا چاہو تو انھیں شمار نہیں کر سکو گے، بے شک اللہ تعالیٰ بڑی بخشش والا رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ایمان کی عظیم دولت کے بعد سب سے بڑی نعمت ’’امن و امان‘‘ ہے۔ امن خوف کی ضد ہے۔ امن دل کے اطمینان و سکون اور راحت و آرام کا دوسرا نام ہے۔ امن کی موجودگی میں انسان اپنے دین، جان و مال، عزت و آبرو اور اپنے حقوق میں سے کسی چیز کے بارے میں نہیں ڈرتا۔ امن حیاتِ انسانی کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد ہے۔ زندگی امن کے بغیر خوش حال رہ سکتی ہے، نہ ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی پر سکون ہو سکتی ہے، اگر امن نہ ہو تو مال کی کیا قیمت رہ جائے گی؟ اگر امن نہ ہو تو خوشحال زندگی پھر کیا ہے؟ امن کے بغیر زندگی میں نشاط انگیزی کہاں سے آئے گی؟ امیدیں تو صرف امن و امان کی حالت ہی میں جنم لیتی ہیں، اور دلوں کو سعی و عمل کے نتائج پر اطمینان صرف امن کی حالت ہی میں میسر آ سکتا ہے۔ انسان کی مفید سر گرمیاں بھی امن و استحکام کی صورت ہی میں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ لوگ اپنے مصالح و منافع میں با ہم تبادلہ کرتے ہیں اور رنگا رنگ کے وہ کام سامنے آتے ہیں، جن کا انسان محتاج و ضرورت مند ہوتا ہے۔ امن کی حالت ہی میں خیرات و برکات نازل ہوتی ہیں اور راستے پر امن رہتے ہیں، تجارت ترقی پاتی ہے، کارخانے پیداوار بڑھاتے ہیں، کھیتی باڑی اچھی ہوتی ہے، جانوروں کی نسل میں افزایش ہوتی ہے، خونریزیاں