کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 273
﴿ اِنَّ عَبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ﴾ [ الحجر: ۴۲] ’’میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں، لیکن ہاں جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں۔‘‘ مسلمانو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور شیطان کے مکر و فریب اس کے بہکاوے اور پھیلائے ہوئے جالوں سے بچو۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ . فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا جَآئَ تْکُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾ [البقرۃ: ۲۰۸، ۲۰۹] ’’مومنو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، وہ تو تمھارا صریح دشمن ہے، پھر اگر تم روشن احکام پہنچ جانے کے بعد لڑکھڑا جاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ غالب (اور) حکمت والا ہے۔‘‘ دعوتِ فکر: یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ شیطانِ لعین انسان کو ہر قسم کے شر و فساد کی طرف ترغیب دلاتا ہے اور نیکی کے ہر راستے میں اس کے لیے رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ وہ ان راستوں میں سے کسی کو بھی معمولی نہیں سمجھتا، سب سے پہلے وہ ابنِ آدم کو کفر کی طرف ترغیب دلاتا ہے اور اگر انسان نے اس کی بات مان لی تو گویا اس نے اپنی لگام شیطان کو تھما دی، اب وہ اسے ہر برائی کی طرف کھینچ کر لے جائے گا اور دنیا و آخرت ہر دو میں اسے ہلاکت میں مبتلا کر دے گا۔ دعوتِ بدعت: اگر کوئی کفر والی بات نہ مانے تو اسے دین میں بدعات پیدا کرنے اور ان پر عمل کرنے کی طرف ترغیب دے گا، کیونکہ اہلِ بدعت عموماً توبہ نہیں کرتے، کیونکہ وہ اس بدعت ہی کو دین سمجھتے ہیں تو شیطان اس پر خوش ہوتا ہے۔ دعوتِ معصیت: اگر یہ بھی نہ مانے تو وہ انسان کو کبیرہ گناہوں کی طرف رغبت دلاتا ہے، یا پھر صغیرہ گناہوں پر مصرّ رہنے پر اُکساتا رہتا ہے۔