کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 270
’’اگر آپ کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آنے لگے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کیجیے، بلاشبہہ وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔‘‘ نیز ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَقُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِینِ . وَاَعُوْذُ بِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ﴾ [المؤمنون: ۹۷،۹۸] ’’اور آپ کہیں اے میرے رب! میں پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ حاضر ہوں۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی باہم گالی گلوچ کرنے لگے، ایک کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اس کی رگیں پھول گئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (( إِنِّيْ لَأَعْلَمُ کَلِمَۃً لَوْ قَالَھَا لَذَھَبَ عَنْہُ مَا یَجِدُ ؛ أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ )) [1] ’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں ا گر یہ کہے تو اس کا غیظ و غضب دور ہو جائے، وہ کلمہ ہے: ’’أعوذ باللّٰه من الشیطان الرجیم‘‘ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں)۔‘‘ (4) نماز کو باقاعدگی سے باجماعت ادا کرنے سے بھی شیطان کے شر اور مکر و فریب سے نجات پا سکتے ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَ الْمُنْکَرِ﴾ [العنکبوت: ۴۵] ’’اور نماز قائم کرو، بے شک نماز فحش کاموں اور برائیوں سے روکتی ہے۔‘‘ اور ابلیس کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے : ﴿ وَمَنْ یَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ فَاِِنَّہٗ یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ﴾ [النور: ۲۱] ’’اور جو شیطان کے نقشِ قدم پر چلے گا تو وہ اسے برائیوں اور فحاشیوں کا حکم دے گا۔‘‘ حدیث شریف میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: (( مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِيْ جَمَاعَۃٍ فَھُوَ فِيْ ذِمَّۃِ اللّٰہِ إِلٰی أَنْ یُمْسِيَ، فَلَا [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۱۱۵) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۲۶۱۰)