کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 269
’’شیطان کی طرح کہ اس نے انسان سے کہا کفر کر ، جب وہ کفر کر چکا تو کہنے لگا میں تو تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں، پس دونوں کا انجام یہ ہوا کہ آتش (دوزخ) میں ہمیشہ کے لیے گئے اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔ ‘‘ روزِ قیامت یہی شیطان آگ کے ایک اونچے الاؤ پر کھڑا ہو کر اپنے چیلوں سے یوں خطاب کر ے گا، جیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے: ﴿ وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْٓا اَنْفُسَکُمْ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَ مَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ [إبراھیم: ۲۲] ’’اور جب فیصلہ کر دیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کیے تھے ان کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباو نہیں تھا، ہاں میں نے تمھیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ، بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمھارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقینا ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ پھر آگ کے بھڑکنے کے شور، لوگوں کی ندامت و حسرت، رونے دھونے اور چیخ پکار کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا، تب اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا: ﴿اخْسَؤُا فِیْھَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ﴾ [المؤمنون: ۱۰۸] ’’پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام بھی نہ کرو ۔‘‘ (3) اس کھلے اور ظاہری دشمن کے شر سے بچنے کے لیے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے اللہ کی پناہ مانگے، کیونکہ استعاذے کا مطلب ہے اللہ کی پناہ میں آنا، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنا اور اسی کا سہارا ڈھونڈنا۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾ [الأعراف: ۲۰۰]