کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 268
شیطان سے نجات کی راہیں: (1) جب تک ہم اپنے دین کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے، تب تک ہم شیطان لعین کے شر سے بچ سکتے ہیں، نہ اس کے مکرو فریب کا توڑ کر سکتے ہیں اور نہ ہی شیطان کے بہکاوے سے بچ سکتے ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴾ [آل عمران: ۱۰۱] ’’جو شخص اللہ تعالیٰ (کے دین) کو مضبوط تھام لے تو بلاشبہہ اسے راہِ راست دکھا دی گئی۔‘‘ (2) ہم کتاب اللہ اورسنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کریں گے اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت و ترغیب دیں گے تو یقینا شیطان سے نجات پا سکیں گے۔ مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے ہم پر واضح کر دیا ہے کہ یہ دشمن لعین انسان کو ہلاکت کی وادی میں لے جاتا ہے، پھر اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے، بلکہ اس کا مذاق اڑاتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: ﴿ تَاللّٰہِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَھُوَ وَلِیُّھُمُ الْیَوْمَ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴾ [النحل: ۶۳] ’’واللہ! ہم نے تجھ سے پہلی امتوں کی طرف بھی اپنے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کے اعمالِ بد ان کی نگاہوں میں آراستہ کر دیے، اور شیطان آج بھی ان کا رفیق بنا ہوا ہے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ اس شیطان مردود نے قومِ نوح ، قومِ عاد و ثمود اور قومِ ابراہیم( علیہم السلام ) اور اصحابِ مدین کے لیے کفر و شرک اور گناہوں کو مزین کیا۔ اس نے قومِ لوط کے لیے برائی و فحاشی کو خوبصورت بنایا اور دیگر اقوام کے لیے مختلف اقسام کے گناہوں اور برائیوں کو ان کے لیے مزین کیا۔ جب ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ندامت و پچھتاوے سے انھیں فائدہ ہوا اور نہ شیطان ہی ان کے کسی کام آیا۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِِذْ قَالَ لِلْاِِنْسَانِ اکْفُرْ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِِنِّیْ بَرِیٓئٌ مِّنْکَ ِِنِّیْ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ . فَکَانَ عَاقِبَتَھُمَآ اَنَّھُمَا فِی النَّارِ خٰلِدَیْنِ فِیْھَا وَذٰلِکَ جَزَآؤُا الظَّالِمِیْنَ﴾ [الحشر: ۱۶، ۱۷]