کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 264
الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا . ذٰلِکَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰہِ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ عَلِیْمًا﴾ [النساء: ۶۹، ۷۰] ’’اور جو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے، وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے جیسے انبیا اور صدیقین و شہدا اور نیک لوگ، یہ بہترین رفیق ہیں، یہ فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ جاننے والا۔‘‘ ایسے لوگوں کی سیرت حسین، ان کے دل پاکیزہ اور ان کے اعمال صالح ہوتے ہیں۔ انھیں اس دنیا میں بھی سعادت و خوشیاں نصیب ہوئیں اور آخرت میں بھی وہ ہمیشہ کے لیے جنت میں رہیں گے۔ اہلِ جہنم: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لیے بھی کچھ لوگ پیدا کیے ہیں جو جہنم والے کام کرتے ہیں۔ اس نے وہ سب راستے بیان کر دیے ہیں جن سے گزرنے کے نتیجے میں وہ ہمیشہ درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے برائی اور محرمات سے خبردار کر دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا باعث بنتے، ذلت و رسوائی کی طرف لے جاتے اور بالآخر جہنم میں داخل کر دیتے ہیں۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِِنَّ لَہٗ نَارَ جَھَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا﴾ [الجن: ۲۳] ’’ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی نہ مانے گا، اس کے لیے جہنم کی آگ ہے، جس میں ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جہنم کی طرف بلانے والے: جس جہنم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قسموں کے ابدی عذاب بنائے ہیں، اس کی طرف دعوت دینے والے بھی اس دنیا میں پائے جاتے ہیں، چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ جَعَلْنٰھُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یُنْصَرُوْنَ . وَ اَتْبَعْنٰھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ﴾ [القصص: ۴۱، ۴۲] ’’اور ہم نے ان کے لیے ایسے امام بنا دیے کہ وہ (لوگوں کو) جہنم کی طرف بلائیں اور روزِ قیامت مطلق مدد نہ کیے جائیں، اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگا