کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 263
تیسرا خطبہ شیطانی مکر و فریب اور اس سے نجات کی راہیں امام و خطيب :فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي حفظه اللّٰه حمد و ثنا کے بعد: مسلمانو! ہر شکل میں اللہ کا تقوی اختیار کرو، یومِ آخرت پر یقین رکھو اور فساد کرنے والوں کا اتباع نہ کرو۔ اللہ کے بندو! یہ جان لو کہ ہر چیز کی ابتدا ہے اور ہر ابتدا کی انتہا ہے۔ ہر دور کا ایک مقصد ہوتا ہے ، بے شک تم امتحان و ابتلا اور آزمایش کے مرحلے میں ہو اور اصل غرض و غایت جنت یا جہنم ہے۔ اہلِ جنت: اللہ تعالیٰ نے جنت میں جانے کا صرف ایک ہی راستہ بنایا ہے اور وہ دینِ اسلام ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾ [آل عمران: ۸۵] ’’جو شخص اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین تلاش کرے تو اس سے یہ دین قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں سے ہوگا۔‘‘ دینِ اسلام میں نیک اعمال مشروع کیے گئے ہیں جو ہلاکتوں سے بچاتے اور تباہی کو دور کرتے ہیں۔ دارالنعیم جنت کے مستحق لوگ پیدا کیے گئے ہیں جو جنت کو حاصل کرنے کے لیے نیکیاں کرتے ہیں اور دوسروں کو نیکی کرنے کی دعوت دیتے ہیں، ان میں سب سے پہلے انبیا علیہم السلام ہیں اور پھر ان کی اتباع کرنے والے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتیں نازل کیں، انھیں بلند درجات سے نوازا اور انھیں بھلائی میں سبقت کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ