کتاب: خطبات حرمین جلد دوم - صفحہ 260
شریعت جو تمام اندھیروں کو نورِ ہدایت سے روشن کر سکتی اور نور علی نور ہے۔ انسانیت کو ہلاکت سے بچانے کی تمام تر صلاحیت صرف اسلام میں ہے اور صرف اسلام ہی بشریت کی سعادت و خوشی کا اکیلا ضامن ہے۔ ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً وَّ نَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۳۸] ’’اللہ کا رنگ، اور اللہ کے رنگ (دینِ اسلام) سے اچھا کس کا رنگ ہو سکتا ہے، اور ہم سب اسی اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں۔‘‘ اپنے دینِ اسلام کو اپنے لیے باعث عز و شرف سمجھو اور گمراہیوں کے گڑھوں میں گرنے سے خود کو بچاؤ اور اپنے اہل و عیال کو بچاؤ۔ تمام خطرات سے بچنے کے لیے اللہ کی پناہ میں آجاؤ اور فکرِ سلیم کے ساتھ نتائج و عواقب پر نظر رکھو اور ان فتنوں سے جس قدر ممکن ہو پہلو تہی کرو۔ شیطان کے تیر چل رہے ہیں اور انسان کا دل ادنیٰ ادنیٰ چیزوں سے بھی متاثر ہو جاتا ہے، معمولی سی بات سے اس میں میل آجاتی ہے جیسے معمولی سے تنکے سے آنکھ میں اور معمولی سی چوٹ سے آئینے میں بال آ جاتا ہے۔ مسلمانو! ہمارے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت و راہنمائی کا ایک پرچم گاڑ رکھا ہے۔ ہر فتنے سے ہم اس کے سائے میں رہ کر بچ سکتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کے سلسلے میں فرمایا ہے: (( مَنْ تَشَرَّفَ لَھَا تَسْتَشْرِفُہٗ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْیَعُذْ بِہٖ )) [1] ’’جو شخص دور سے ان کو جھانکے گا وہ اس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں گے، اس وقت جس کو کوئی پناہ گاہ مل سکے وہ اس میں چلا جائے۔‘‘ فتنۂ دجال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: (( مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ فَلْیَنْأَ عَنْہُ -أَيْ فَلْیَبْعُدْ عَنْہُ- فَوَ اللّٰہِ إِنَّ الرَّجُلَ لَیَأْتِیْہِ وَھُوَ یَحْسِبُ أَنَّہٗ مُؤْمِنٌ، فَیَتْبَعُہٗ مِمَّا یَبْعَثُ بِہٖ مِنَ الشُّبُھَاتِ )) [2] ’’جو دجال کے بارے میں سنے، اسے چاہیے کہ وہ اس سے دور ہی رہے۔ اللہ کی قسم! بے شک جو اس کے پاس آئے گا اور وہ سمجھتا ہوگا کہ وہ مومن ہے، مگر پھر وہ اس دجال کی پیروی کرنے لگے گا، کیونکہ وہ دجال اسے بہکانے کے لیے اپنے شبہات و ہتھکنڈوں [1] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۶۶۷۰) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۴۳۱۹)